ہوم » نیوز » Explained

Explained: کون ہے وسیم رضوی ، جس نے قرآن کریم کی 26 آیات ہٹانے کا کیا ہے مطالبہ ؟

شیعہ وقف بورڈ (Shia Central Board of Waqf) کے سابق چیئرمین وسیم رضوی (Waseem Rizvi) نے قرآن کریم کی آیات ہٹوانے کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی (PIL in Supreme Court to remove certain ayat in Quran) داخل کی ہے ۔ اس کی دلیل ہے کہ یہ آیات بعد میں جوڑی گئی ہیں ، جس سے لوگ شدت پسند ہورہے ہیں ۔

  • Share this:
Explained: کون ہے وسیم رضوی ، جس نے قرآن کریم کی 26 آیات ہٹانے کا کیا ہے مطالبہ ؟
Explained: کون ہے وسیم رضوی ، جس نے قرآن کریم کی 26 آیات ہٹانے کا کیا ہے مطالبہ ؟

شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف احتجاج تیز ہوگیا ہے ۔ رضوی اپنے ہی مذہب کے لوگوں کے نشانے پر ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے مسلمان ہونے سے بھی انکار کیا جارہا ہے اور ایف آئی آر کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ رضوی نے دراصل قرآن کی 26 آیات کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے ، جس کی چوطرفہ مذمت کی جارہی ہے ۔


اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں وسیم رضوی نے کہا تھا کہ قرآن کریم کی چند آیتیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی ہیں اور انہیں ہٹایا جانا چاہئے ۔ تاکہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مسلمان نام نہ جڑیں ۔ اس کیلئے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین رضوی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تاکہ ان آیات کو حذف کیا جاسکے ۔ حالانکہ عرضی داخل کرنے کی جانکاری ہوتے ہی مسلم مذہبی رہنماوں نے رضوی کی شدید مذمت کرنی شروع کردی ہے ۔


رضوی کا کیا ہے کہنا


الزام ہے کہ رضوی نے اپنی سیاست چمکانے اور مسلم مخالف طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے ایسا کیا تاکہ وہ سرگرم سیاست میں آسکیں ۔ جبکہ اپنے حق میں رضوی کا کہنا ہے کہ جن 26 آیات کو ہٹانے کیلئے انہوں نے پی آئی ایل داخل کی ہے ، وہ آیات بنیادی طور پر قرآن کا حصہ نہیں تھیں ، بلکہ انہیں شدت پسندوں نے بعد میں جوڑا تاکہ مذہب کو ماننے والے مسلمان اس پر بھروسہ کرلیں ۔

کم عمرمیں ہوا والد کا انتقال

بتادیں کہ رضوی خود ایک شیعہ مسلم ہیں ۔ وہ اترپردیش کے شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین رہ چکے ہیں اس ناطے ان کا سرگرم سیاست میں بھی کافی دخل رہا تھا ۔ شیعہ کنبہ میں پیدا ہوئے وسیم رضوی کے والد ریلوے کے ملازم تھے ۔ جب وسیم کی عمر کم ہی تھی تبھی ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ اس کے بعد وسیم اعلی تعلیم حاصل کئے بغیر کم عمر میں ہی کام کرنے لگے ۔

وسیم رضوی نے کہا تھا کہ قرآن کریم کی چند آیتیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی ہیں اور انہیں ہٹایا جانا چاہئے ۔
وسیم رضوی نے کہا تھا کہ قرآن کریم کی چند آیتیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی ہیں اور انہیں ہٹایا جانا چاہئے ۔


ذاتی معلومات کم ملتی ہیں

وسیم رضوی کی زندگی کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ملتی ہے ۔ وکی پیڈیا کی مانیں تو رضوی نے سعودی عرب، جاپان اور امریکہ میں بھی کئی اسٹورس میں کام کیا ، لیکن پھر کام چھوڑ کر ملک لوٹ آئے ۔ یہاں لکھنو میں رضوی نے کاروبار شروع کیا اور پھر جلد ہی وسیم رضوی نے شیعہ لیڈر کے طور پر اپنی شناخت بنالی ۔ اس کے بعد سے رضوی بلدیاتی اداروں میں جانا پہچانا نام بن گئے ۔

اس دوران ہی وہ سینٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین بنے اور سال 2020 تک اس عہدہ پر رہے ۔ اس دوران وہ مسلم مخالف بیانات کی وجہ سے زیادہ سرخیوں میں رہے ۔ ان پر مسلسل الزامات لگتے رہے کہ وہ سیاست میں آگے بڑھنے کیلئے ایسی باتیں کرتے ہیں اور یہاں تک کہ کئی مرتبہ انہیں مسلمان ماننے سے بھی انکار کردیا گیا ۔

وسیم رضوی کے بیانات اکثر تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔
وسیم رضوی کے بیانات اکثر تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔


رام کی جنم بھومی فلم بنائی

رضوی نے بالی ووڈ میں بھی ہاتھ آزمانے کی کوشش کی ۔ سال 2019 میں رضوی نے بطور پروڈیوسر ایک فلم لانچ کی ۔ رام کی جنم بھومی نام کی اس فلم کے ڈائریکٹر سنوج مشرا تھے جبکہ فلم کی اسکرپٹ وسیم رضوی نے لکھی تھی ۔ 29 مارچ 2019 کو ریلیز ہوئی اس فلم میں رام مندر ، بابری مسجد جیسے ایشوز کے علاوہ حلالہ پر بھی بات کی گئی تھی ۔ حالانکہ فلم فلاپ رہی ، لیکن رضوی ضرور سرخیوں میں آگئے ۔

وسیم رضوی کے متنازع بیانات

علاوہ ازیں وسیم رضوی کے بیانات اکثر تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔ ایک موقع پر رضوی نے کہا تھا کہ ملک کی نو متنازع مساجد کو ہندووں کو سونپ دیا جانا چاہئے ۔ اس سلسلہ میں رضوی نے بابری مسجد کا نام بھی لیا تھا کہ یہ ہندوستان کی زمین پر کلنک ہے ۔ اسی طرح سے ایک مرتبہ اسلام کے جھنڈے کا موازنہ پاکستانی جھنڈے سے کرتے ہوئے شیعہ لیڈر نے کہہ ڈالا تھا کہ یہ سبز پرچم پاکستان سے وابستہ ہے اور اس کو لہرانے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ مدارس اسلامیہ پر تالا لٹکانے کی اپیل بھی رضوی کرچکے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 18, 2021 06:59 PM IST