உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جلد آنے والا ہے کورونا کا اگلا ویریئنٹ ، اومیکران سے ہوسکتا ہے زیادہ خطرناک : WHO

    جلد آنے والا ہے کورونا کا اگلا ویریئنٹ ، اومیکران سے ہوسکتا ہے زیادہ خطرناک : WHO

    جلد آنے والا ہے کورونا کا اگلا ویریئنٹ ، اومیکران سے ہوسکتا ہے زیادہ خطرناک : WHO

    WHO, Omicron, Covid-19 Next Variant : عالمی صحت تنظیم کی ایک افسر نے حال ہی میں کہا تھا کہ اومیکران کے علاوہ دنیا میں ایک نیا ویریئنٹ جلد ہی دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ سائنسدانوں نے یہ بھی مانا کہ ساتھ ہی یہ نیا ویریئنٹ (Corona new Variant) اومیکران سے کہیں زیادہ تیز رفتار سے پھیلنے والا ہوسکتا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکران  (Omicron Cases)  کی وجہ سے دنیا بھر میں انفیکشن کے معاملات میں اچھال آیا ہے ۔ اس درمیان ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے جمعرات کو کہا کہ پچھلے ہفتہ پوری دنیا میں کورونا کے 2.1 کروڑ معاملات سامنےآئے ، جو کہ اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ اس وقت کورونا کی تیسری لہر کتنی شدید ہے ۔ دنیا بھر کے ریسرچ کرنے والوں کا ماننا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کورونا کا ایک اور ویریئنٹ جو کہ اومیکران سے بھی تیز رفتار سے پھیلے گا ، وہ جلد ہی دنیا میں دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔

      عالمی صحت تنظیم کی ایک افسر نے حال ہی میں کہا تھا کہ اومیکران کے علاوہ دنیا میں ایک نیا ویریئنٹ جلد ہی دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ سائنسدانوں نے یہ بھی مانا کہ ساتھ ہی یہ نیا ویریئنٹ (Corona new Variant) اومیکران سے کہیں زیادہ تیز رفتار سے پھیلنے والا ہوسکتا ہے ۔

      سوشل میڈیا پر ایک بحث کے دوران ڈبلیو ایچ او کی سائنسداں ماریا وان نے کہا تھا کہ کورونا معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ اومیکران اتنا خطرناک نہیں رہا جتنا کہ کورونا کے پیچھلے ویریئنٹ رہے ۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کورونا کا اگلا ویریئنٹ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔

      ماریا نے کہا کہ ابھی پوری دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کورونا کا اگلا ویریئنٹ کس طرح سے رد عمل ظاہر کرے گا اور کیا یہ زیادہ جان لیوا ہوگا یا کم خطرناک ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ گزرتے وقت کے ساتھ کورونا کے ویریئنٹ کمزور ہوجائیں گے اور کم لوگ بیمار پڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرسکتے ہیں کہ اگلا ویریئنٹ خطرناک ہو ، لیکن اس کی گارنٹی نہیں لی جاسکتی ۔

      ڈبلیو ایچ او سائنسدان نے کہا کہ جب تک کورونا کا انفیکش ہے ، تب تک کورونا پروٹوکول پر عمل کرنا چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے ویریئنٹ میں ویکسین سے خود کا بچاو کرنے کی صلاحیت بھی ہوگی اور یہ اومیکران سے زیادہ رفتار سے پھیل سکتا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: