ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صحیح کون تھا- اورنگ زیب یا دارا شکوہ، اس حقیقت کا پتہ لگاتی ہےیہ کتاب

کشمیر سے دکن تک پھیلی مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور کو حاصل کرنا کتنا مشکل تھا جبکہ سبھی بھائی اورنگ زیب، داراشکوہ، مراد بخش اور شاہ شجاع ایک دوسرے کے ساتھ سازش میں غرق تھے۔

  • Share this:
صحیح کون تھا- اورنگ زیب یا دارا شکوہ، اس حقیقت کا پتہ لگاتی ہےیہ کتاب
اورنگ زیب ایسا ہی بادشاہ ہے۔ مغلیہ سلطنت کا وہ آخری طاقتور شخص جو بے حد پیچیدہ شخصیت کا مالک تھا۔

ساڑھے تین سو سال پہلے ایک بادشاہ اور اس کے فیصلوں پر آج فتویٰ دینا نہ صرف مشکل بلکہ بے معنی ہوگا۔ اورنگ زیب ایسا ہی بادشاہ ہے۔ مغلیہ سلطنت کا وہ آخری طاقتور شخص جو بے حد پیچیدہ شخصیت کا مالک تھا، جس نے خود کو ذہنی طور پر مکمل مسلمان بنے رہنےکی کوشش کی۔ اس لئے اکثر تاریخ داں جانے انجانے میں اس کے اوراس کے لئے ہوئے فیصلوں کو غلط نظروں سے دیکھنےلگے ہیں۔


چشمہ اتار کر حادثات کو دیکھیں


افسر احمد کے ذریعہ لکھی گئی بک سیریز 'اورنگ زیب نائک یا کھلنائک' کا دوسرا حصہ اقتدارکی جدوجہد (ستا سنگھرش) نہ صرف اس تنگ نظریے کو چیلنج دیتا ہے بلکہ اپنےقارئین کو مجبورکرتا ہےکہ وہ سبھی جمہوری چشمےکو اتارکر ان حادثات کو اپنی آنکھوں کے سامنے گزرتے دیکھیں۔ خود کو وہاں کھڑا پائیں اور پھر اپنے سے فیصلہ کریں کہ اپنے ہی سگے بھائی داراشکوہ کے ساتھ وجود کی لڑائی میں الجھے شخص کےلئےکیا کرنا صحیح تھا۔ کشمیر سے دکن تک پھیلی مغلیہ سلطنت کی باگ ڈورکو حاصل کرنا کتنا مشکل تھا جبکہ سبھی بھائی اورنگ زیب، داراشکوہ، مراد بخش اور شاہ شجاع ایک دوسرے کے ساتھ سازش میں غرق تھے۔


صحیح کون تھا- اورنگ زیب یا دارا شکوہ، اس حقیقت کا پتہ لگاتی ہے افسر احمد کی کتاب 'اورنگ زیب نائک یا کھلنائک' افسر احمد کے ذریعہ لکھی گئی بک سیریز 'اورنگ زیب (ستا سنگھرش) نائک یا کھلنائک'۔
صحیح کون تھا- اورنگ زیب یا دارا شکوہ، اس حقیقت کا پتہ لگاتی ہے افسر احمد کی کتاب 'اورنگ زیب نائک یا کھلنائک'
افسر احمد کے ذریعہ لکھی گئی بک سیریز 'اورنگ زیب (ستا سنگھرش) نائک یا کھلنائک'۔


اورنگ زیب نےکیا اقتدار حاصل کرنےکےلئے بے رحمی دکھائی تھی

راجپوت اب اس کے دادا اکبرکے دورکی طرح مغلیہ سلطنت پرنچھاور نہیں تھے۔ چھوٹے چھوٹے علاقائی لیڈران سر اٹھانےلگے تھے اور مغل سلطنت کے ڈیڑھ سو سال گزرے بھی نہ تھےکہ عیش و آرام نے جڑیں پکڑلی تھیں۔ سوال اٹھتے ہیں کہ کیا اقتدار کےلئے داراشکوہ کا قتل صحیح تھا، والد کو قید کرنا کیا صحیح تھا، اورنگ زیب نےکیا اقتدار حاصل کرنےکےلئےبے رحمی دکھائی تھی۔ کتاب میں تب بھائیوں کےدرمیان اقتدارکےجدوجہدکےدوران کیا رونما ہوا، اس کی پڑتال کی گئی ہے۔ اورنگ زیب، داراشکوہ اور شاہجہاں کے ہاتھ کےتحریر کردہ (لکھے) کئی فرمان (صفحات) سے سچ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ سچ جو نہ پوری طرح داراشکوہ کے حق میں جھکا نظر آتا ہے، جسے آج دنیا بے چارے کے طور پر دیکھتی، نہ ہی شاہجہاں کے حق میں وہ جاتا ہے، جسےلوگ آج اس طور پرجانتے ہیں کہ اس نے اپنا آخری وقت قید میں گزارا اور نہ ہی اورنگ زیب کو کلین چٹ دی جاسکتی ہے۔
 سب سے بے رحم اقتدار کی جدوجہد

سب دراصل اقتدارکے لئے لڑ رہے تھے، اسی لئے یہ اس دورکی سب سے بے رحم اقتدار کی جدوجہد تھی۔ افسر احمد اس بات کو جانتے ہیں کہ تاریخ کو تنگ نظر سے دیکھےجانے کے نتیجے کیا رہے ہیں اور اس سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ کسی بھی وقت کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتی۔ بیتے ہوئے کل کو سمجھتے ہوئے آپ اس سے سبق لے سکتے ہیں، فخرکرسکتے ہیں یا بھلا سکتے ہیں، لیکن اس سے نفرت نہیں کرسکتے۔ اورنگ زیب کی شخصیت اور اس کے دور کی نبض پرہاتھ رکھنا آسان نہیں ہے۔ افسر احمد کی یہ کتاب سیریز شاید تاریخ کو سمجھنےکی ان غلطیوں سے ہمیں بچا پائے، جو بابرکے نام اور وقت کو لےکر ہوتی رہی ہیں۔ ہندی زبان میں لکھا گیا دوسرا حصہ اقتدارکی جدوجہد 184 صفحات پرمشتمل ہے۔ اسے ایووکو پبلیکشن نے شائع کی ہے۔
First published: Feb 27, 2020 10:56 PM IST