உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار کون ہوگا؟ بی جے پی کئی گروپوں میں منقسم

    مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار کون ہوگا؟ بی جے پی کئی گروپوں میں منقسم

    مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار کون ہوگا؟ بی جے پی کئی گروپوں میں منقسم

    مغربی بنگال بی جے پی کے اندر گھمسان مچنے کے بعد پارٹی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے واضح کردیا ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کسی بھی لیڈر کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بناکر پیش نہیں کرے گی بلکہ وزیرا عظم مودی کی قیادت میں انتخاب لڑا جائے گا اور وہی پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔

    • Share this:

      کولکاتا: میگھالیہ کے سابق گورنر تتاگت رائے کے بنگال کی سیاست میں سرگرم ہونے اور انہیں وزیراعلیٰ کا امیدوار بنائے جانے کی خبر کے درمیان مغربی بنگال بی جے پی کے اندر گھمسان مچ گیا ہے۔ اس کے بعد ریاست کے انچارج اور پارٹی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے واضح کردیا ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کسی بھی لیڈر کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بناکر پیش نہیں کرے گی بلکہ وزیرا عظم مودی کی قیادت میں انتخاب لڑا جائے گا اور وہی پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔
      کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ اب تک پارٹی کا جو فیصلہ ہے، اس کے مطابق کسی کو بھی پارٹی وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں بنائے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں انتخابات لڑیں گے اور جیتیں گے۔ جیت کے بعد پارلیمانی پارٹی اور مرکزی قیادت کے درمیان صلاح و مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے میگھالیہ کے گورنر تتاگت رائے بنگال کی سیاست میں دوبارہ واپس آنے کا اشارہ دے رہے ہیں اور بی جے پی کے ایک حلقے سے انہیں وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا جانے کی آواز بھی اٹھ رہی ہے۔ اس درمیان بی جے پی کے ایک بڑے حلقے کی جانب سے کہا گیا کہ ریاستی صدر دلیپ گھوش وزیرا علیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ تتاگت رائے کل سہ پہر کلکتہ واپس پہنچے توائیر پورٹ بی جے پی کے سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنان ان کا استقبال کرنے کیلئے موجود تھے۔




      کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ اب تک پارٹی کا جو فیصلہ ہے، اس کے مطابق کسی کو بھی پارٹی وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں بنائے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں انتخابات لڑیں گے اور جیتیں گے۔
      کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ اب تک پارٹی کا جو فیصلہ ہے، اس کے مطابق کسی کو بھی پارٹی وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں بنائے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں انتخابات لڑیں گے اور جیتیں گے۔

      گورنر کی میعاد 20 مئی کو ختم ہوگئی، لیکن کورونا کی مدمت میں اضافہ کردیا گیا تھا مگر اب وہ مدت مکمل کرکے اپنی ریاست بنگال واپس آگئے ہیں۔ تتاگت رائے نے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ 2021 کے انتخابات سے قبل وہ دوبارہ ریاستی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تتاگت رائے کے اعلا ن کے بعد سے ہی بی جے پی دو گروپ میں تقسیم ہوگئی تھی۔قیاس آرائی کی جاری تھی کہ وہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔تتاگت رائے نے خود کہا تھا کہ اگر انہیں وزیرا علیٰ کا امیدوار بنایا جاتا ہے تو وہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔
      تاہم کیلاش ورجے ورگی نے اسمبلی انتخابات سے قبل کسی بھی لیڈرکو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنائے جانے کی قیاس آرائیوں پر لگالگاتے ہوئے کہا کہ اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔فی الحال ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 220 سے 230 سیٹوں پر انتخابات جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔امید ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی طرح اسمبلی انتخابات کے نتائج آئیں گے۔


      نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: