لوک سبھا انتخابات : کس کی بنے گی حکومت ، نیوز 18 اپسوس ایگزٹ پول 2019 دے گا سب سے صحیح اندازہ

نتائج سے پہیلے نتیجوں کے درست اندازہ کیلئے نیوز 18 نے آئی پی ایس او ایس کے ساتھ سب سے زیادہ قابل یقین ایگزٹ پول کیا ہے ۔ یہ سب سے بڑا ایگزٹ پول ہے ، جس نے ملک کی تقریبا ہرریاست کے ووٹروں کا دل ٹٹولنے کی کوشش کی ہے ۔

May 19, 2019 12:09 PM IST | Updated on: May 19, 2019 12:09 PM IST
لوک سبھا انتخابات : کس کی بنے گی حکومت ، نیوز 18 اپسوس ایگزٹ پول 2019 دے گا سب سے صحیح اندازہ

نیوز 18 اپسوس ایگزٹ پول 2019 دے گا سب سے صحیح اندازہ

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں لوک سبھا انتخابات آخری مرحلہ میں ہے ۔ 19 مئی کو 8 ریاستوں کی 59 سیٹوں پر ووٹنگ کے ساتھ ہی شام پانچ بجے لوک سبھا کی 542 سیٹوں کی تقدیر ای وی ایم میں بند ہوجائے گی ، جس کے بعد ملک کی سیاست کی تقدیر طے ہونے اور صاف ہونے میں صرف تین دن باقی رہ جائیں گے ۔ کیونکہ 23 مئی کی صبح سے گنتی شروع ہوگی ۔ لیکن اس سے پہلے ایک سوال سبھی سیاسی پارٹیوں ، لیڈروں اور ووٹروں کے ذہن میں برقرار رہے گا کہ اس مرتبہ کس کی حکومت بنے گی ۔

نتائج سے پہیلے نتیجوں کے درست اندازہ کیلئے نیوز 18 نے آئی پی ایس او ایس کے ساتھ سب سے زیادہ قابل یقین ایگزٹ پول کیا ہے ۔ یہ سب سے بڑا ایگزٹ پول ہے ، جس نے ملک کی تقریبا ہرریاست کے ووٹروں کا دل ٹٹولنے کی کوشش کی ہے ۔ 19 مئی کی دیر شام سے نیوز 18 ملک بھر کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا سب سے صحیح ایگزٹ پول بتانا شروع کرے گا ۔

Loading...

ایگزٹ پول کیلئے اعداد و شمار حاصل کرنے کیلئے سروے میں جہاں سب سے بڑے سیمپل کا استعمال کیا گیا ہے وہیں ہر زمرہ ، ہر زبان اور ہر عمر کے بھی ووٹروں سے بات کی گئی ہے۔ سروے کے عمل میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کہیں بھی ایک جیسے خیالات اندازوں کو غلط ٹھہرانے کا کام نہ کریں ، اس لئے زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر زیادہ سے زیادہ ووٹروں سے براہ راست بات کی گئی ہے ۔

سروے میں لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں سے 199 سیٹوں کا انتخاب کیا گیا تھا ۔ ملک کی 28 ریاستوں میں 199 پارلیمانی سیٹوں کے 796 اسمبلی حلقوں سے سیمپل لئے گئے ، جہاں 4776 پولنگ اسٹیشنوں میں ہر بوتھ پر 25 ووٹرس کا اچانک انتخاب کیا گیا ۔

اس دوران الگ الگ علاقوں کے پولنگ بوتھ پر آئے ووٹرس سے سوالات پوچھے گئے ۔ اس عمل کے تحت 199 سیٹوں پر 141542 ووٹرس سے انٹرویو کیا گیا ۔ پارلیمانی سیٹوں کے انتخاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ صرف انہیں سیٹوں کا انتخاب کیا گیا ، جہاں ایک پارٹی گزشتہ دو یا تین الیکشن سے جیت رہی ہو یا وہاں جیت کا فرق کم رہا ہو ۔ ساتھ ہی ان سیٹوں کا بھی انتخاب کیا گیا جہاں ہر الیکشن میں الگ نتائج آئے ہیں اور جہاں سینئر لیڈروں نے اپنی قسمت آزمائی ۔

Loading...