ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی تلنگانہ حکومت سے کیوں مانگ رہی ہیں مدد؟

سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی جو اپنی پیدائش کے بعد سے ہی اپنی زندگی کے لئے جدوجہد کررہی ہیں کو اپنی تعلیم کے لئے ایک اور جدوجہد کا سامنا ہے۔

  • Share this:
سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی تلنگانہ حکومت سے کیوں مانگ رہی ہیں مدد؟
سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی جو اپنی پیدائش کے بعد سے ہی اپنی زندگی کے لئے جدوجہد کررہی ہیں کو اپنی تعلیم کے لئے ایک اور جدوجہد کا سامنا ہے۔

سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی جو اپنی پیدائش کے بعد سے ہی اپنی زندگی کے لئے جدوجہد کررہی ہیں کو اپنی تعلیم کے لئے ایک اور جدوجہد کا سامنا ہے۔ یہ دونوں مارچ2020میں ہونے والے دسویں جماعت کے امتحان کو تحریر کرنے کی اجازت کی منتظر ہیں۔ محکمہ تعلیم اس الجھن کا شکار ہے کہ آیا سروں سے جڑی ہوئی ان بہنوں کو ایک کے طورپرتصورکیا جائے یا پھردو؟ انہیں ایک ہال ٹکٹ دیا جائے یا پھر دو۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ویناوانی کے اس مسئلہ پر وضاحت اور اجازت کی محکمہ تعلیم سے خواہش کی ہے۔ محکمہ تعلیمات کے طریقہ کار کے مطابق اوپن اسکول سسٹم میں امتحان تحریر کرنے والے طلبہ کا اندراج سرکاری یا پرائیویٹ اسکولس میں کروانا ہوتا ہے۔ وینا وانی نے وینگل راو نگر حیدرآباد کے سرکاری اسکول میں داخلہ لیا تھا۔ ہیڈماسٹر کمیٹی نے ان کی صلاحیت اور معلومات کی جانچ کے بعد انہیں داخلہ دیا تھا۔




اسی دوران حکومت تلنگانہ نے محکمہ بہبودی خواتین و اطفال کی جانب سے چلائے جانے والے اسٹیٹ ہومس میں ان کی تعلیم کے لئے خصو صی انتظامات کئے تھے۔ اساتذہ اور مضامین کے ماہرین نے انہیں گھر ہی تعلیم دی تھی تاہم ساتویں اور آٹھویں جماعت سے ترقی پانے والے بچوں کو دسویں جماعت کے امتحان لکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ حیدرآباد ڈی ای او وینکٹ نرسمہا نے کمشنر اسکولی تعلیم وجئے کمار کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان دونوں لڑکیوں کے تعلق سے وضاحت کی خواہش کی۔ وینا اور وانی نے ایک انٹرویو میں کہا ”ہم امتحانات کی تیاری کررہے ہیں اور حکومت کے فیصلہ کے مطابق ہم امتحانات تحریر کریں گے لیکن ہم علحدہ امتحان دینا چاہتے ہیں۔ ہم ہمارے مضامین کی بہتر تیاری کررہے ہیں“۔

 سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی
سروں سے جڑی ہوئی دونوں جڑواں بہنیں وینا- وانی


2002میں محبوب آباد ضلع کے دنتلاپلی منڈل کے بیری ستی گوڑم کے مرلی اور ناگالکشمی کو یہ دونوں سروں سے جڑی بہنیں پیدا ہوئی تھیں ابتداء میں ان کا علاج حیدرآبا دکے نیلوفر ہاسپٹل میں کروایا گیاتھا۔2017جنوری میں انہیں حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اسٹیٹ ہومس منتقل کیا گیا۔ ویناوانی خصوصی ٹیوٹر کے تعاون سے تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ قبل ازیں ان کے والدین نے تلنگانہ حکومت پر زور دیا کہ وہ ان دونوں کی سرجری کے ذریعہ انہیں علحدہ کرنے کے انتظام کریں حالانکہ طبی ماہرین نے خیال ظاہر کیا کہ یہ سرجری خطرناک ہوسکتا ہے۔ 12سال کی عمر میں اسپتال کے حکام نے کہا کہ 12سال کے بعد وہ اسپتال میں نہیں رہ سکتیں۔ ان کے والدین نے کہا کہ وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے کیونکہ وہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں۔ بین الاقوامی طبی ماہرین‘لندن اور سنگاپور کے سرجری کے ماہرین نے کئی سالوں تک مختلف مواقع پر ان کا معائنہ کیا تاکہ ان کو علحدہ کرنے کے لئے پیچیدہ سرجری کروائی جائے۔ اس سرجری کا خرچ 10کروڑ روپئے ہے۔
First published: Dec 26, 2019 06:34 PM IST