உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dolo-650: کورونا کے دور میں کیوں مقبول ہوئی یہ دوا، کمپنی کے چیئرمین نے بتائی یہ بات

    کورونا دور میں ڈولو650 بنی سب سے مقبول دوا۔

    کورونا دور میں ڈولو650 بنی سب سے مقبول دوا۔

    دلیپ سرانا نے بتایا کہ ڈولو650 کو دوگنا پسند کیا گیا۔ کووڈ ہونے پر اس دوا کو لیا گیا تو وہیں ویکسین کے بعد بھی ڈاکٹرس نے ڈولو650 کھانے کی صلاح دی۔ ویکسینیشن ڈرائیو کے دوران مائیکرو لیبس نے پوسٹر لگاکر لوگوں کو بتایا کہ اب آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:کورونا کے علاج میں کووی شیلڈ ویکسین کی طرح ڈولو650 (Dolo-650) نے بھی اہم رول ادا کیا اور اس کی مقبولیت اس قدر رہی کہ ملک بھر میں ڈاکٹرس اور مریضوں نے اس کی جم کر خریداری کی۔ یہ دوا بخار اور بدن درد کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس کا کامبینیشن پیراسٹامول دوا جیسا ہے۔ یہ دوا مائیکرو لیبس کی جانب سے بنائی جاتی ہے۔ اس کمپنی کے چیئرمین اور ایم ڈی دلیپ سرانا نے بتایا کہ ڈولو 650 کے لئے کبھی پبلک میں اشتہار نہیں دیا گیا تھا۔ اس دوا کی مقبولیت سے ہم حیران ہیں، اس کی ریکارڈ توڑ فروخت کے بعد ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور ہم اپنے بزنس پر زیادہ دھیان دے رہے ہیں۔ دلیپ سرانا نے ’منی کنٹرول‘ سے خاص بات چیت میں بتایا کہ تقریباً ہر کورونا مریض کی پرچی پر ڈولو650 لکھی جاتی رہی۔ اس دوا کے اثر نے اسے مقبول بنایا۔ لوگوں نے اس سے ملے فائدے کو اپنے عزیزوں سے شیئر کیا۔

      ’مائلڈ اینالیجسٹک‘ یعنی کہ درد سے نجات اور ’اینٹی پائریٹک‘ یعنی بخار کم کرنے والے زمرے میں آتی ہے۔ دلیپ سرانا نے کہا کہ بازار میں پیراسٹامول 500 ایم جی زمرے میں کئی نام ہیں اور بہت ساری کمپنیاں اسے بناتی ہیں۔ جب ایسا دیکھا کہ اگر ہم بھی اسی طرح کی دوا بازار میں لائیں گے تو اسی ہجوم کا حصہ بن جائیںگے، ایسے میں ڈولو650 کو میدان میں اتارا گیا۔ یہ پیراسٹامول سے بڑے دائرے کی دوا ہے۔ جہاں پیراسٹامول 500 صرف بخار اور درد سے راحت دینے کے لئے ہے، وہیں ڈولو650 درد اور بخار کے بڑھے دائرے پر بھی کام کرتی ہے۔ یہ جہاں پیراسٹامول 500 سے آگے کی دوا ہے اور اس کا اثر لوگوں نے محسوس کیا۔

      انہوں نے کہا کہ کوویڈ-19 کے دوران لوگوں کو ڈولو650 سب سے اچھی دوا محسوس ہوئی۔ اس دوران لوگ کورنٹین تھے، ڈاکٹرس بھی سیدھے طو رپر مریضوں کو نہیں دیکھ رہے تھے۔ ایسے وقت ڈولو650 نے کووڈ کے اہم علامات پر اثردار کام کیا اور لوگوں کو راحت ملی۔ اسی وجہ سے لوگوں نے اسے واٹس ایپ، ایس ایم ایس اور وائس میسیج میں خوب شیئر کیا۔ کورونا کے دوران ایک شخص سے شروع ہوئی تعریف دوسرے تک پہنچی اور دیکھتے دیکھتے اس سے لاتعداد لوگ جڑ گئے۔ آج ڈولو650 ملک کے کئی خاندانوں تک پہنچ گیا ہے۔

      کورونا کے ساتھ، ویکسین کے بعد بھی
      دلیپ سرانا نے بتایا کہ ڈولو650 کو دوگنا پسند کیا گیا۔ کووڈ ہونے پر اس دوا کو لیا گیا تو وہیں ویکسین کے بعد بھی ڈاکٹرس نے ڈولو650 کھانے کی صلاح دی۔ ویکسینیشن ڈرائیو کے دوران مائیکرو لیبس نے پوسٹر لگاکر لوگوں کو بتایا کہ اب آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ یہ پوسٹرس ملک کے سبھی ویکسنیشن سینٹر پر لگائے گئے۔ سبھی پوسٹرس پر ڈولو650 کا نام تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: