ہوم » نیوز » وطن نامہ

پیرنٹس کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ انہیں ہماری جنسی تعلقات میں دخل دینے کا حق ہے؟

ہر والدین تو نہیں، لیکن بیشتر ہندوستانی والدین ایسا کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہمارے ملک کے خاندانی نظام کا سسٹم ذمہ دار ہے۔ آپ کو اس موضوع کو سماجی نظریے سے دیکھنا ہوگا نہیں تو ہم اس پریشانی کا حل نہیں نکال پائیں گے۔

  • Share this:
پیرنٹس کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ انہیں ہماری جنسی تعلقات میں دخل دینے کا حق ہے؟
پیرنٹس کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ انہیں ہماری جنسی تعلقات میں دخل دینے کا حق ہے؟

ہر والدین تو نہیں، لیکن بیشتر ہندوستانی والدین ایسا کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہمارے ملک کے خاندانی نظام کا سسٹم ذمہ دار ہے۔ آپ کو اس موضوع کو سماجی نظریے سے دیکھنا ہوگا نہیں تو ہم اس پریشانی کا حل نہیں نکال پائیں گے۔ سماج صرف مخالف صنف سے متعلق ’حقائق’ کو ہی قبول کرتا ہے اور شادی کو پیار کا واحد دکھانا اور سیکس کی اجازت حاصل کرنے جا طریقہ مانتا ہے۔ ان موضوعات کو ہمیشہ ہی ذاتی نظریے یا عام سمجھ کی بنیاد پر ہی نہیں دیکھنا چاہئے۔


پیرنٹس اگر یہ مانتے ہیں کہ انہیں ہماری سیکسوئلٹی میں دخل دینے کا حق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سماج کا حصہ ہیں اور ان کی پرورش بالکل ہی گھسے پٹے رسم ورواج کے درمیان ہوا ہے۔ ایک روایتی خاندانی ڈھانچے میں آزادی اور قبولیت کا ہونا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ پیرنٹس اپنے بچوں کی سیکسوئلٹی کے بارے میں بہت ہی شدت پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے لئے بھی اسی طرح کی سماجی قبولیت حاصل کرنے کے حق میں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے بچوں کے لئے بھی اسی طرح کی سماجی قبولیت حاصل کرنے کے حق میں ہوتے ہیں، جو انہیں حاصل ہوچکی ہوتی ہے اور جن سے انہیں فائدہ ہوا ہے۔ روایتی سماجی اصول اس سماج میں رہنے والوں کے لئے ایک سیکورٹی گھیرے کا کام کرتا ہے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ لوگ بغیر کوئی سوال پوچھے اس کو مانتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ وقت بدل رہا ہے اور ہمارے جینے کے طریقے بدل رہے ہیں، ان سماجی ضوابط میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں۔


مثال کے لئے آج اگر کوئی جوڑی شادی کرتا ہے اور اس کو لگتا ہے کہ وہ ساتھ خوش نہیں رہ سکتا، تو وہ آپسی رضامندی سے الگ ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی جوڑے کو یہ لگتا ہے کہ شادی کرنے سے پہلے وہ ایک دوسرے کو جان لینا چاہتے ہیں کہ ساتھ رہ سکتے ہیں کہ نہیں، تو شادی سے پہلے وہ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگر کوئی عورت بچہ گود لینا چاہتی ہے، لیکن شادی نہیں کرنا چاہتی، تو اگر وہ والدین کے فرائض کو پوری ذمہ داری سے نبھا سکتی ہے تو اسے سنگل پیرنٹس ہونے کا حق ہے۔ پیار، پیار ہے بھلے ہی وہ مخالف صنف کے درمیان ہو یا ہم جنس پرستوں کے درمیان۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کا دفعہ 377 پر آیا فیصلہ غیرآئینی ہے۔ فیملی کی نئی ساخت بھی سامنے آرہی ہے۔ سنگل پیرنٹس، ہم جنس پرستی، لیسبین! لو ان ریلیشن، بیچلر وغیرہ۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 15, 2021 11:58 PM IST