உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ghulam Nabi Azad نے آخر کیوں 50 سال بعد کانگریس اور راہل گاندھی سے حاصل کی آزادی

    آنجہانی سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ میں کانگریس کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دینے والے پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد۔ (فائل فوٹو)

    آنجہانی سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ میں کانگریس کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دینے والے پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد۔ (فائل فوٹو)

    Ghulam Nabi Azad News: غلام نبی آزاد نے الزام لگایا کہ درباریوں کی پناہ میں کانگریس کو چلایا جا رہا ہے اور پارٹی ملک کے واسطے صحیح چیزوں کے لئے جدوجہد کرنے کی اپنی خواہش اور صلاحیت کھو چکی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: غلام نبی آزاد نے ملک کی سب سے پرانی پارٹی سے باہر نکلنے کا دن اچھی طرح سے اور بہت سوچ سمجھ کر منتخب کیا۔ انہوں نے 50 سال کی لمبی اننگ کھیلنے کے بعد جمعہ کو پارٹی کو الوداع کہہ دیا۔ غلام نبی آزاد کی آزادی نے پارٹی کو ایسی حالت میں لاکر چھوڑ دیا ہے، جہاں وہ نہ صرف کئی ٹکڑوں میں بکھری ہوئی ہے، بلکہ پارٹی میں کئی گانٹھیں بھی ہیں۔ غلام نبی آزاد نے پہلی بار لوک سبھا الیکشن اس وقت لڑا، جب اندرا گاندھی نے انہیں بلایا اور ایک کشمیری کو مہاراشٹر جاکر الیکشن لڑنے کے لئے کہا۔ وہ کبھی ‘نہ‘ نہیں کہہ سکتے تھے، اس لئے انہوں نے الیکشن لڑا اور جیتے بھی۔ یہی وہ وقت تھا، جب غلام نبی آزاد نے کانگریس اور گاندھی فیملی کے بڑے وفادار ہونے کا ٹیگ حاصل کیا۔

      غلام نبی آزاد کانگریس کے ان چنندہ لیڈران میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اندرا گاندھی سے لے کر راجیو گاندھی تک اور پھر سونیا گاندھی کے ساتھ کام کرتے ہوئے بڑی آسانی سے ان کے کام کرنے کے طریقہ کار میں خود کو ڈھال لیا، لیکن راہل گاندھی اکلوتے ایسے شخص رہے، جن کے ساتھ وہ کبھی مطمئن نہیں تھے۔ اس بارے میں، حال ہی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے کہا تھا کہ یہ مان لینا غلط ہے کہ وہ ‘نسل کے فرق اور تبدیلی کی وجہ سے راہل گاندھی اور ان کی ٹیم کے ساتھ غیر مطمئن تھے۔ کیونکہ جب راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی نے پارٹی کا کام کاج سنبھالا، تو وہاں بھی وہی نسل کی تبدیلی تھی‘۔

      ’جی-23 سینئر لیڈران کو بے عزت کیا گیا‘

      خط میں بتایا گیا ہے کہ غلام نبی آزاد اور ان کے جیسے کئی، جو جی-23 کا حصہ ہیں، نے کہا کہ وہ خود کو پارٹی سے الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ آزاد نے الزام لگایا کہ پارٹی کی کمزوریوں پر توجہ دلانے کے لئے خط لکھنے والے پارٹی کے جی-23 سینئر لیڈران کو نازیبا الفاظ کہے گئے، انہیں بے عزت کیا گیا، نیچا دکھایا گیا۔ انہوں نے قیادت پر داخلی انتخابات کے نام پر پارٹی کے ساتھ بڑے پیمانے پر ’دھوکہ‘ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے پہلے ’کانگریس جوڑو یاترا‘ نکالنی چاہئے تھی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Jammu and Kashmir: غلام نبی آزاد کی حمایت میں 5 سابق اراکین اسمبلی کا کانگریس سے استعفیٰ

      یہ بھی پڑھیں۔

      غلام نبی آزاد کے استعفیٰ پر فاروق عبداللہ نے کہا- پہلے خوب پیار برستا تھا، اب عزت نہیں ملتی ہوگی

      آزاد کے کانگریس چھوڑنے کا کیا مطلب ہے؟

      یہ کانگریس کی داخلی صورتحال اور راہل گاندھی کی سیاست اور پارٹی چلانے کے طریقہ کار کے ساتھ کئی لوگوں کی ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جتن پرساد یا جیوتی رادتیہ سندھیا جیسے پارٹی چھوڑنے والے بیشتر لوگوں اور غلام نبی آزاد نے اپنے خط میں جو لکھا ہے، اس میں کچھ مماثلت ہیں۔ سبھی نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ گاندھی فیملی… خاص طور پر راہل گاندھی تک اب ان کی پہنچ نہیں ہے یا پھر وہ ان سے کافی کوششوں کے بعد بھی رابطہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

      آزاد نے خط میں راہل گاندھی پر لگائے الزام

      غلام نبی آزاد نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو لکھے خط میں راہل گاندھی پر پارٹی کے اندر مشاورت کے نظام کو ختم کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، ’سبھی سینئر اور تجربہ کار لیڈران کو درکنار کردیا گیا اور غیر تجربہ کار ‘چاپلوسوں‘ کی نئی منڈلی پارٹی کے معاملوں میں دخل دینے لگی‘۔ غلام نبی آزاد نے کہا، ’آپ کے (سونیا گاندھی) کے پاس صرف نام کی قیادت ہے، سبھی اہم فیصلے یا تو راہل گاندھی لیتے ہیں، یا پھر اس سے بھی بدتر صورتحال میں ان کے سیکورٹی اہلکار اور پرسنل اسٹاف لیتے ہیں‘۔ غلام نبی آزاد کے جانے سے جی-23 کے دیگر لیڈران کے لئے بھی پارٹی چھوڑنے کا راستہ کھل سکتا ہے، تو کیا اس ضمن میں اگلے لیڈر آنند شرما ہوسکتے ہیں؟

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: