உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی ڈاکٹرس COVID-19 ویکسین کے بوسٹر شاٹس کیوں لگوا رہے ہیں

    ہندوستانی ڈاکٹرس COVID-19 ویکسین کے بوسٹر شاٹس کیوں لگوا رہے ہیں؟

    ہندوستانی ڈاکٹرس COVID-19 ویکسین کے بوسٹر شاٹس کیوں لگوا رہے ہیں؟

    ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے نقطۂ نظر سے، اعلی جوکھم کے حامل افراد کیلئے ویکسین کا تیسرا بوسٹر شاٹ بنانا ہی واحد حل ہے اور یہ اس کا تعلق پالیسی سازی سے ہے۔

    • Share this:
      وبا کے پہلی مرتبہ شروع ہونے کے بعد سے، ڈاکٹرس اور ہیلتھ کیئر ورکرز انفیکشن کے خلاف ہمارے دفاع کی پہلی صف بن کر ابھرے ہیں۔ ان کے تعاون کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا اور اس کی ستائش کی گئی ۔ کچھ معاملات تو ایسے بھی ہوئے کہ اس کی وجہ سے ان بہادر پیشہ وران کیلئے کام کرنے کے حالات بہتر بنائے گئے، جس میں انہیں حفاظتی ساز و سامان مہیا کرنا شامل ہے۔ ہندوستان نے جب پہلی مرتبہ اپنی ویکسینیشن کی پہلی گائیڈلائنز طے کی، تب ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کو اولیت دی گئی اور وہ اولین COVID-19 ویکسینیشنز کروانے والے انتہائی ترجیحی گروپس میں شامل ہو گئے۔

      تاہم، پہلی ویکسینیشن کے اس مینڈیٹ سے تقریباً ایک سال بعد، ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز میں صحت کا ایک مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ ویکسینیشنز کے کئی مہینوں بعد، ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے جسمانی نظام میں اینٹی باڈیز مکمل طور پر غائب ہیں۔ اس کا علم معمول کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کے دوران ہو اور اس بات کے پیش نظر کہ ان میں کئی ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر پیشہ وران اب بھی COVID-19 کے علاج اور نظم و نسق سے وابستہ ہیں، یہ علامت پریشان کن ہے۔ نتیجتاً، اطلاع ہے کہ وہ COVID-19 ویکسینیشن کے خفیہ بوسٹر شاٹس لگوا رہے ہیں۔ چونکہ ان میں سے بیشتر ’بوسٹر‘ شاٹس ویکسین کے ٹیکوں میں باقی بچ جانے والی اضافی خوراکوں سے حاصل کئے جاتے ہیں، اسلئے اس پر کسی نے توجہ نہیں اور ان کی گنتی نہیں ہوئی ہے۔

      امریکہ جیسے کچھ ممالک نے انفیکشنز کے زیادہ خطرے کے حامل شہریوں کیلئے پہلے ہی بوسٹر شاٹس لگوانے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن بھارت میں، جہاں 3 اکتوبر تک اہل بالغ آبادی کے صرف 26.3% کو ہی ویکسین لگی ہے، ویکسین کی مساوی تقسیم کے حوالے سے تشویش اور اس تک رسائی نے ایسے اقدامات کو معطل کر دیا ہے۔ لیکن ویکسینیشن کی دوسری خوراک لینے کے کچھ ماہ بعد ہی اینٹی باڈی کی تعداد کے اچانک ختم ہونے کی اطلاعات کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی پوری آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگانے سے پہلے ہی لوگوں کو بوسٹر شاٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کیلئے، یہ فوری تشویش کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انہوں نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

      ہر چند کہ ڈاکٹروں کا غیر مجاز طریقے سے بوسٹر شاٹس لگوانا پروٹوکول کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، لیکن اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں درپیش دکھائی نہ دینے والے خطرات کے پیش نظر وہ اخلاقیات کو نظر انداز کرنے کے تمام دعووں کو بذات خود مسترد کر رہے ہیں۔ اس ذاتی نقصان میں مزید اضافہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز خاص طور پر اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کے انفیکشنز ان کے اہل خانہ کو نہ لگ جائیں۔ ایسے گھریلو سیٹ اپ میں، جہاں ماں اور باپ دونوں ڈاکٹرز ہیں، بچوں اور بزرگ رشتے داروں کو خاص طور پر انفیکشن لگنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

      ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے نقطۂ نظر سے، اعلی جوکھم کے حامل افراد کیلئے ویکسین کا تیسرا بوسٹر شاٹ بنانا ہی واحد حل ہے اور یہ اس کا تعلق پالیسی سازی سے ہے۔ بوسٹر کی خوراکیں وسائل کا رخ موڑنے اور ویکسینیشن کی کاوش کو کمزور کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے بھارتی آبادی کے ایسے کمزور ترین طبقوں کو تقویت دینے میں مدد ملے گی اور اس سے ہماری اجتماعی صحت اور امیونٹی کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

      ہندوستان کے سب سے بڑے COVID-19 ویکسین سے متعلق بیداری ڈرائیو، فیڈرل بینک لمیٹیڈ کی ایس ایس آر پیش قدمی ’ Network18سنجیونی ۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ کے ساتھ ہر بھارتی کو ویکسین لگوانے میں مدد کرنے کی اس کوشش میں شامل ہوں۔ یہی وقت ہے ہندوستان کی صحت اور امیونٹی کیلئے کھڑے ہونے کا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: