ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شادی سے پہلے سیکس کرنا ہندوستانی معاشرے میں ممنوع کیوں؟

آج کے نوجوان جن سے پیار کرتے ہیں، ان کے ساتھ شادی سے پہلے جنسی تعلقات بناتے ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں یہ ممنوع کیوں ہے؟ میں مانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جنسی تعلقات کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہے تو دوسروں کو اس بات سے کیا مطلب ہے، اگر وہ جنسی تعلقات بناتے ہیں۔

  • Share this:
شادی سے پہلے سیکس کرنا ہندوستانی معاشرے میں ممنوع کیوں؟
شادی سے پہلے سیکس کرنا ہندوستانی معاشرے میں ممنوع کیوں؟

سوال: آج کے نوجوان جن سے پیار کرتے ہیں، ان کے ساتھ شادی سے پہلے جنسی تعلقات بناتے ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں یہ ممنوع کیوں ہے؟ میں مانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جنسی تعلقات کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہے تو دوسروں کو اس بات سے کیا مطلب ہے، اگر وہ جنسی تعلقات بناتے ہیں۔


یہ اہم سوال ہے، جو ہمارے معاشرے سے آج پوچھا جانا چاہئے۔ جب شادی سے پہلے ہونے والے سیکس تعلقات پر مچائے جانے والے شور شرابہ کے بارے میں ہم سوچتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ بے مقصد ہے۔ سیکس ایک نہایت ہی ذاتی چیز ہے، جو دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، تو پھر عام لوگ اس میں اتنا کیوں دلچسپی لیتے ہیں۔


شادی سے پہلے ہونے والے سیکس کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ ہے کنوارے پن (virginity) کا تصور۔ صدیوں سے خواتین پر سیکس سے دور رہ کر اپنی درستگی بنائے رکھنے کا دباو پڑتا رہا ہے۔ اسے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ پہلی بار سیکس شادی کے بعد صرف اپنے شوہر سے کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہ اس کا کنوارا پن ڈبے میں بند ایسی ہوا ہے، جو ڈھکن کے کھلنے سے ہی بدبو دار ہوجائے گا۔ دلہن کے کنوارے پن کے تئیں جو یہ جنون اور تصور ہے، اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سہاگ رات کو بیڈ پر رنگ برنگے چادر بچھائے جاتے ہیں تاکہ پہلی رات کے سیکس سے خون نکلنے کا پتہ چل سکے۔ حالانکہ، اس بارے میں اگر آپ تھوڑی بھی تحقیق کریں گے تو آپ کو آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ کنوارے پن کا تصور اتنا ہی بڑا معاملہ ہے، جتنا یہ امید کرنا کہ پہلی رات کے سیکس سے لڑکی کے جسم سے خون نکلے گا۔


شادی سے پہلے سیکس کی مخالفت یہودی - عیسائی نظریہ کی بھی پیداوار ہے، جس کے تحت یہ مانا جاتا ہے کہ سیکس کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا ہے۔ یہ نظریہ لطف یا پیار کے لئے سیکس کی مخالفت کرتا ہے اور اسے افادیت پسند ہونے تک محدود کردیتا ہے۔ یہی ایک بات ہے، جو سیکس کو جنسی تعلقات تک محدود کردیتا ہے، جیسے کہ سیکس سے متعلق دیگر باتیں فحاشی اور بغیر اہمیت کی ہیں۔ یہ مردوں میں آرگیزم کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے، لیکن خواتین میں آرگیزم کو غیر اہم مانتا ہے۔

تیسرا ’ناجائز بچوں’ کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے بھی شادی کے پہلے سیکس کو ممنوع تصور کیا جاتا ہے۔ ناجائز بچوں کو اپنے والد کی جائیداد کے لئے خطرہ مانا جاتا ہے۔ آج بھی اس طرح کے بچوں کو اپنے والد کی جائیداد میں حصہ داری اور مالی مدد کی بات واضح ہے۔ عموماً جن خواتین کی شادی سے پہلے بچے پیدا ہوتے ہیں، انہیں اپنے بچوں کے دم پر رقم جمع کرنے والا بتایا جاتا ہے تاکہ وہ مالدار لوگوں سے رقم اینٹھ سکیں۔

پھر، شادی سے پہلے سیکس کو قبول کرنے کا مطلب ہوگا کہ غیر روایتی فیملی کو منظوری دینا، جس میں طلاق اور ایک ماں - باپ کی منظوری ہوگی۔ یہ سماج کی تشکیل اور اس کی طاقت ڈھانچہ کو چیلنج دینا ہوگا، جو مردوں کے ہاتھ میں مالی طاقت تھماتا ہے اور خواتین سے گھر پر رہنے اور اس کی دیکھ بھال کا ذمہ سونپتا ہے۔ صدیوں سے یہی ہماری سماجی پالیسیوں اور مذہبی تنظیموں کی ریڑھ رہی ہے۔ شادی سے پہلے سیکس اس طرح کے ڈھانچے پر منحصر رہنے والے ادارے کے لئے خطرہ ہے۔

یہ کچھ اہم اسباب ہیں، جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شادی سے پہلے سیکس پر پابندی ہے۔ یہ نظام کس قدر کمزور منظوری اور سابقہ روایات پر مبنی ہے، اس کا پول اس بارے میں تھوڑی حقیقت سے کھل جاتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 09, 2021 11:17 PM IST