உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان میں صرف الیکٹرک گاڑیوں کو کیوں فروغ دے رہی ہے حکومت؟ LPG کو کیوں نہیں؟ جانیے کیا ہے وجہ

    ہندوستان میں تقریباً 25 لاکھ گاڑیاں آٹو ایل پی جی پر چلتی ہیں۔ (فائل فوٹو)

    ہندوستان میں تقریباً 25 لاکھ گاڑیاں آٹو ایل پی جی پر چلتی ہیں۔ (فائل فوٹو)

    آئی اے سی کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلوں سے بھلے ہی کاربن خارج نہ ہو، لیکن الیکٹرک جنریشن پروسیس کے ذریعے سے کاربن خارج ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کو آٹو ایل پی جی کے استعمال وہیل ٹو وہیلر اخراج پر غور کرنا چاہیے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان میں آٹو ایل پی جی (LPG) کو فروغ دینے کے لئے نوڈل باڈی انڈین آٹو ایل پی جی الائنس (IAC) نے صرف الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے سے گرین موبیلیٹی کو فروغ دینے کی حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھائے ہیں۔

      IAC کا دعویٰ ہے کہ گاڑیوں سے ہونے والے کاربن کے اخراج کے خلاف جنگ میں آٹو ایل پی جی پر چلنے والی گاڑیوں کا یکسان طور سے رول ہے۔ تنظیم نے گاڑیوں سے ہونے والے کاربن اخراج کو کم کرنے کے لئے صرف الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کی پالیسی کو یکطرفہ اور جانبدارانہ قرار دیا ہے۔

      IAC کے مطابق، ہندوستانی سڑکوں پر چلنے والے 30 کروڑ پیٹرول-ڈیزل گاڑیوں کو الیکٹرک کی طرف موڑنا ایک عام آپشن نہیں ہے۔ اس کام میں ابھی کئی رکاوٹوں کو پار کرنا ہوگا، وہیں، آٹو ایل پی جی کم وقت میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے معاملے میں ای وی کو شکست دیتا ہے۔ IAC کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو چلانا کوئی کاربن نیوٹرل پالیسی نہیں ہے، کیونکہ 60 فیصد بجلی فوسسل ایندھن کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔

      الیکٹرک جنریشن پروسیس سے ہوتی ہے آلودگی
      آئی اے سی کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلوں سے بھلے ہی کاربن خارج نہ ہو، لیکن الیکٹرک جنریشن پروسیس کے ذریعے سے کاربن خارج ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کو آٹو ایل پی جی کے استعمال وہیل ٹو وہیلر اخراج پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تنظیم نے آٹو ایل پی جی کنورژن کٹ پر جی ایس ٹی کو 28 فیصدی سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس نے اس سیکٹر میں مانگ کو فروغ دینے کے لئے آٹو ایل پی جی پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔

      اس لئے پاپولر نہیں ایل پی جی کنورژن
      موجودہ حالات میں ہندوستانی رولس میں آٹو ایل پی جی کنورژن کٹ کو ہر تین سال میں رینیو کرانے کے لئے اپروول کی ضرورت ہوتی ہے، جو گاہکوں کے لئے کافی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹو ایل پی جی کنورژن ابھی ہندوستان میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔ وہیں دوسری جانب فیکٹر فٹیڈ سی این جی کٹ والی گاڑیوں کو لینا زیادہ پسند کررہی ہیں۔ آئی اے سی کے ڈائریکٹر جنرل سویش گپتا نے کہا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 25 لاکھ گاڑیاں آٹو ایل پی جی پر چلتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ حکومت کو اس کو لے کر صحیح پالیسی بنانا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: