اترپردیش کے ووٹ بینک: انتخابی منڈی میں مسلمانوں کی کیا ہے قیمت؟

گزشتہ الیکشن 2014 کے نتائج نے پہلی باریہ ثابت کیا کہ مسلمان نہ منڈی کا مال ہے اورنہ یہ کوئی یکطرفہ 'ووٹ بینک' ہی ہے۔ ایسا ہوتا تویوپی کے 4 کروڑ مسلمان کم ازکم ایک رکن پارلیمنٹ تومنتخب کرکے پارلیمنٹ بھیج ہی دیتے۔

Mar 20, 2019 02:58 PM IST | Updated on: Mar 20, 2019 03:20 PM IST
اترپردیش کے ووٹ بینک: انتخابی منڈی میں مسلمانوں کی کیا ہے قیمت؟

فائل فوٹو

نرسمہا راوکی حکومت میں وزیرریل رہے سی کے جعفرشریف نے ایک زمانے میں کہا تھا کہ مسلمان تو'منڈی کے مال' کی طرح لیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ووٹ کے بارے میں ایسا مانا بھی جاتا ہےاورہلکے ڈھنگ سےعام طورپرکہا بھی جاتا ہے کہ یہ 'ٹیکٹیکل ووٹنگ' کرتے ہیں، یکطرفہ طورپرچلےجاتے ہیں اوران کے ووٹ کےلئے بڑی رسہ کشی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہوبھی کیوں نہیں۔ آخراترپردیش کی آبادی میں تقریباً 20 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے۔

تاہم 2014 میں پہلی باریہ دیکھنے کوملا کہ مسلمان نہ منڈی کا مال ہے اورنہ اس کوکوئی لینے والا ہے۔ یوپی کے4 کروڑمسلمان پارلیمنٹ میں ایک بھی نمائندہ نہیں پہنچا سکےتھے۔ مودی کے سیلاب میں صرف مسلمانوں کےلیڈروں کی سیاست ہی نہیں، اس میں بہت سے دعوے بھی کافورہوگئے تھے۔

Loading...

مسلمانوں کی سیاسی حیثیت

عام انتخابات 2014 سےاترپردیش کےلئے دونتائج سامنےآئے۔ پہلا مسلمان یکطرفہ'ووٹ بینک' نہیں ہے۔ دوسرا وہ بھی اتنا ہی تقسیم ہوا ہے، جتنے اترپردیش کے رائے دہندگان کی بڑی آبادی۔ مردم شماری 2011 کے مطابق اترپردیش میں 4 کروڑمسلمان ہیں توپورے ملک میں 18 کروڑیعنی 14 فیصد۔ تاہم 2014 میں سب سےکم صرف 22 مسلمان لوک سبھا پہنچے۔ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی آبادی کے لحاظ سے محض 4 فیصد ہی ہے۔ لیڈران مانتے ہیں کہ لوک سبھا کے 218 پارلیمانی حلقوں میں مسلمانوں کا ووٹ فیصد 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

اترپردیش کے50 فیصد والے پارلیمانی سیٹ رام پورپرمسلمانوں کی شکست کی بات یا اکثریت ہونے کے باوجود ان کے ووٹ بینک کی وجہ بہرحال 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں اترپردیش سےایک بھی مسلمان رکن پارلیمنٹ کا منتخب نہ ہونا بتاتا ہےکہ سبھی مسلمان صرف بی جے پی کی مخالفت کی بنیاد پرووٹنگ نہیں کرتے۔ مسلم سماج کواس خاکہ میں فٹ کرنا اصل میں غیربی جے پی پارٹیوں کا شوشہ ہے، جس کے سہارے وہ ان کے مدعوں اور تضادات سے منہ پھیرپاتے ہیں۔ ظاہرہےکہ ایسا کرکےانہیں ووٹ بینک میں تبدیل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

1

یہ سچ ہےکہ اسلام میں کسی بھی ذات پات کے بھید بھاو کےلئےجگہ نہیں، لیکن ہندوستانی مسلمانوں میں ذات پات کا نظام دیکھنے کوملتی ہے۔ مگرعام طورپربڑی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے ذات پات کے نظام، فرقے اوردوسرے گروپوں کی سیاست کوکہنے سننے سے کتراتی رہی ہیں۔ مسلمانوں کی ذات پات کی نظام پر1960 میں غوث انصاری نے 'مسلم سوشل ڈویژن ان انڈیا' نام کی ایک کتاب لکھی تھی، اس میں غوث نے شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کوچاراہم گروہوں میں تقسیم کیا تھا۔ سید، شیخ، مغل اورپٹھان۔ حالانکہ اس کا بہت زیادہ یہاں فرق نہیں پڑتا ہے۔

اترپردیش کے رام پورسیٹ کےقصے سے سمجھیں رام پورسیٹ پرمسلمانوں کی آبادی 49.14 فیصد ہے، لیکن اس سیٹ کے 50 فیصد مسلمان بھی یہاں سے کسی مسلم امیدوار کو نہیں جتاسکے۔ بی جے پی کےنیپال سنگھ نے سماجوادی کےنصیراحمد خان کوتقریباً 28 ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ دراصل یہاں بھی وہی ہوا، جوکہ زیادہ ترمسلم اکثریتی سیٹوں کا حال ہوتا ہے۔ بی جے پی کےعلاوہ سبھی نے مسلم امیدواروں کومیدان میں اتارا۔ نواب کاظم علی خان آئے، جنہوں نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ بی ایس پی سے اکبرحسین اترے، جنہیں 81 ہزارسے زیادہ ووٹ ملے جبکہ آل انڈیا مائنارٹی فرنٹ کی امیدوارجنت نشاں کے حصے میں بھی پانچ ہزارووٹ مل گئے۔ ہوا یوں کہ مسلمان ووٹ ان پارٹیوں نےہی تقسیم کردیا تھا، جوان کی سب سے بڑی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کررہی تھیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوپی کی سب سے زیادہ مسلم آبادی والی سیٹ بھی مسلم لیڈرکوپارلیمنٹ نہیں بھیج سکی۔

بہرحال 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں یوپی سے ایک بھی مسلمان  رکن پارلیمنٹ کا منتخب نہ ہونا بتاتا ہے کہ مسلمان صرف بی جے پی کی مخالفت کی بنیاد پرووٹنگ نہیں کرتے۔ مسلم سماج کو اس  فارمیٹ میں سیٹ کرنا یقیناً غیربی جے پی جماعتوں کی ایک سہولت ہے، جس کے سہارے وہ ان کے موضوعات اوراندرخانہ مخالفت سے منہ پھیرلیتی ہیں۔ ظاہرہےکہ ایسا کرکے انہیں ووٹ بینک میں تبدیل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

2

سچرکمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1936 میں جب انگریزوں کے سامنے یہ معاملہ گیا تو ایک ایمیریئل آرڈرکےتحت سکھ، بودھ، مسلم اورعیسائی دلتوں کوبطوردلت منظوری دی گئی، لیکن انہیں ہندو دلتوں کوملنے والے فائدوں سے محروم کردیا گیا۔ 1950 میں آزاد ہندوستان کے آئین میں بھی سہولت یہی رہی۔ حالانکہ 1956 میں سکھ دلتوں اور1990 میں نئے بودھوں کو دلتوں میں شامل توکرلیا گیا، لیکن مسلمان دلت ذات کو منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ ہونے کے بعد اوبی سی لسٹ میں ہی جگہ مل پائی۔

کاکا کالیلکرکمیشن (1955) نے کیا کہا؟

اس کمیشن نے 2399 پسماندہ ذاتوں کی ایک لسٹ بنائی تھی، جن میں سے 837 ذات کو 'بہت پسماندہ' کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ کمیشن نے پسماندہ ذات کی اس فہرست میں نہ صرف ہندو اوبی سی بلکہ مسلم اوبی سی ذات کو بھی جگہ دی تھی۔ کمیشن نے ان ذات کو پسماندہ توتسلیم کیا، لیکن مسلمانوں اورعیسائیوں میں موجود ان ذات کے ساتھ بھید بھاو ہوتا ہے، اسے ماننے سے انکارکردیا تھا۔ کمیشن نے مانا کہ پسماندگی ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ ذات کی بنیاد پرقانونی سہولت یا ایسی کوئی سفارش ان مذاہب میں بھی اس 'انہلدی پریکٹس' کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔

منڈل کمیشن (1980) نے کیا کہا؟

اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ملک کی 3743 ذات کو اوبی سی لسٹ میں شامل کیا تھا۔ کمیشن نے مانا کہ ذات کی بنیاد پربھید بھاو صرف ہندووں تک محدود نہیں بلکہ مسلم، سکھ اورعیسائیوں میں بھی ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں 82 مسلم ذات کو اوبی سی میں جگہ دی تھی۔ دلتوں سے جومسلمان بنے، انہیں 'ارذال' اوراوبی سی ذات سے مسلمان بنے لوگوں کو 'اذلاف' کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ حالانکہ کمیشن نے سفارش کی کہ 'ارذال' کو ایس سی کٹیگری میں فائدہ ملنا چاہئے۔ ساتھ ہی انہیں موسٹ بیک ورڈ کاسٹ (سب سے زیادہ پسماندہ ذات) کٹیگری میں شامل کردیا۔ اسی کے بعد سے مسلم ذات کو اوبی سی ریزرویشن کا فائدہ ملنے لگا۔ بعد میں سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بھی مانا گیا کہ مسلم اوبی سی میں غریبی سب سے زیادہ ہے۔ سوشل انڈیکیٹرس جیسی غذائیت، ہاوس ہولڈ اورسماجی پسماندگی کے معاملے میں بھی مسلم اوبی سی کی حالت ملک میں ہندو دلتوں سے بھی بدترہے۔

تیرہ سیٹوں پر30 فیصد سے زیادہ ، لیکن ایک بھی رکن پارلیمنٹ نہیں

گزشتہ لوک سبھاالیکشن 2014 سے پہلے پارلیمنٹ میں صرف 23 فیصد مسلم ارکان پارلیمنٹ میں پہنچے تھے۔ ویسے ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقے کو سب سے اچھی شراکت 1980 کی لوک سبھا میں ملی تھی۔ اندرا گاندھی کی واپسی والی لوک سبھا میں سب سے زیادہ 49 مسلم ارکان پارلیمنٹ تھے۔ اعدادوشمار پرنظرڈالیں تو2014 میں مسلم طبقے سے بی ایس پی نے 19، سماجوادی نے 13 اورکانگریس نے 11 امیدواراتارے تھے۔ ویسے اترپردیش میں کل 52 مسلم امیدوارتھے۔ واضح رہے کہ ملک کی 70 اوراترپردیش کی 13 لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں، جہاں مسلم رائے دہندگان کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہے۔

mundel

اگر15 فیصد کو بنیاد بنائیں تو اترپردیش کی 32 لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں، جہاں مسلم آبادی ہے۔ 2014 میں ان 32 سیٹوں میں سے سماجوادی پارٹی کو صرف 2 سیٹیں ملیں اور30 سیٹوں پربی جے پی جیتی۔ کیرانہ ضمنی الیکشن میں عظیم اتحاد کی امیدوارتبسم حسن اگرالیکشن نہیں جیت پاتیں، تویہ ہندوستانی تاریخ کا پہلا الیکشن تھا جب اترپردیش سے کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں جیت پایا تھا۔ سہارنپور، امروہہ، شراوستی، بجنور، مظفرنگر، مرادآباد اوررامپورجیسی یوپی کی 80 سیٹیں جہاں مسلم آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے، سبھی جگہ بی جے پی نے جیت درج کی تھی۔ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے 428 سیٹوں پرالیکشن لڑا، جس میں سے 7 مسلم امیدوارتھے، لیکن ایک بھی جیت جیتا۔ دوسری طرف کانگریس نے 464 سیٹوں پرالیکشن لڑا، جس میں سے 27 پرمسلم امیدوار تھے، جس میں سے تین جیتے۔

کیوں بے اثرہوئے مسلمان ووٹ؟

سی ایس ڈی ایس - لوکنیتی نے اپنے سروے میں پایا کہ مسلم ووٹوں کا سب سے زیادہ اثران سیٹوں پرنظرآتا ہے، جہاں ان کی تعداد 10 فیصد کے آس پاس ہوتی ہے۔ ایسی سیٹیں جہاں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہوجائے وہاں ان کا ووٹ اکثربے اثرہوجاتا ہے۔ یہ ٹرینڈ بالکل ریزروسیٹوں پربی ایس پی کے کمزورثابت ہونے جیسا ہی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ کئی مسلم امیدوارکی وجہ سے ووٹ تقسیم ہونا۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ کئی بارہندو ووٹوں کا کاونٹرپولرائزیشن بھی ہوتا ہے۔ 2014 کے بارے میں بھی یہی رائے ہے کہ یوپی، خاص کر کے مغربی اترپردیش کی سیٹوں پرکاونٹرپولرائزیشن کی وجہ سے بی جے پی کومدد ملی۔

وہ 13 سیٹیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے، وہاں 1991 کے الیکشن سے پیٹرن دیکھیں توپتہ چلتا ہے کہ 8 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں بی جے پی ہمیشہ سے ہی مضبوط رہی ہے۔ بریلی جیسی سیٹ کو توبی جے پی کا گڑھ بھی مانا جاسکتا ہے۔ 2014 میں بھی غیربی جے پی جماعتوں کے ذریعہ مسلم امیدوار کے سامنے مسلم اتارنے کے سبب یہ ووٹ بینک ناکام ثابت ہوا۔ اگراترپردیش کی سہارنپورسیٹ پرنظرڈالیں تو مسلم اکثریتی ہونے کے باوجود کانگریس کے عمران مسعود یہاں سے اس لئے ہارے کیونکہ ان کے مقابلے ان کے چچا زاد بھائی شاذان مسعود سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پرلڑ رہے تھے۔ مسعود کو تقریباً 70 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ ان کے چچا زاد بھائی کو 50 ہزارسے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

انکت فرانسس کی خصوصی رپورٹ

Loading...