ہوم » نیوز » وطن نامہ

شادنگر انکاؤنٹر: پولیس کمشنروی سی سجنارکیوں ہورہی ہے تعریف، کیاہے 2008 کی تاریخ؟

اس انکاؤنٹر کے بعد سائبرآباد پولیس کمشنر کی تعریف ہورہی ہے،لوگ پولیس کمشنروی سی سجنار کی تعریف کررہے ہیں

  • Share this:
شادنگر انکاؤنٹر:  پولیس کمشنروی سی سجنارکیوں ہورہی ہے تعریف، کیاہے 2008 کی تاریخ؟
پولیس کمشنروی سی سجنار

دارالحکومت تلنگانہ میں،خاتون ویٹرنری ڈاکٹرکے ساتھ عصمت دری اورقتل کیس سے ملک لرزاٹھاتھا۔ہرجگہ لوگ ملزمین کوفوری سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جمعہ کے روز، جیسے ہی یہ خبر ملی کہ پولیس کے ایک انکاؤنٹر میں چاروں ملزم ہلاک ہوگئے ہیں،لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ اور اس کے لواحقین کے لئے اس سے بہترانصاف نہیں ہوسکتا ہے۔

حیدرآباد:  ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک حیدرآباد: ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک

اس انکاؤنٹر کے بعد سائبرآباد پولیس کمشنر کی تعریف ہورہی ہے، لوگ پولیس کمشنروی سی سجنار کی تعریف کررہے ہیں ۔ ان کی وجہ سے، پولیس کی اس معاملے پر خصوصی توجہ مرکوزتھی۔ واقعے کے فوراً بعد نے انہوں نےہدایت دی تھی کہ اس معاملہ میں فوری طورپرملزمین کوگرفتارکرلیاجائے اورایسا ہی ہوا۔ 60 گھنٹوں کے اندر پولیس نے ملزم کو گرفتارکرلیا۔ ایک ہفتہ کے بعد پولیس نے اس گھناؤنے جرم انجام دینے والے ملزمین کوانکاؤنٹرمیں ہلاک کردیا۔

حیدرآباد:  ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک حیدرآباد: ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک ریمانڈ کے دوران پولیس چاروں ملزمین کو جائے وقوعہ پر لے گئی۔ پولیس ملزم کی نظر سے پورے واقعے کو سمجھنا چاہتی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ اس دوران ان چاروں نے پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ ایسی صورتحال میں پولیس کے سامنے گولی چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے ان کو پکڑنے کے لئےفائرنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں ملزمین ہلاک ہوگئے۔ بعدازاں ان کی لاشوں کو سرکاری اسپتال بھیج دیا گیا۔ حیدرآباد:  ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک حیدرآباد: ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک ہم آپ کو بتادیں کہ 2008 میں ،تلنگانہ کے ورنگل میں پولیس نے اسی طرح کے ایک انکاؤنٹرمیں تیزاب حملے کے تین ملزمین کو ہلاک کیا تھا۔ اس وقت ورنگل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وی سی سجنارہی تھے۔ اسی طرح ،پولیس تینوں ملزمین کو واقعے کی منظرکشی کرنے کے مقصد سے وقوع پرلیے گئی تھی۔ ان تینوں ملزمین نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔جس کے بعد پولیس نے انکاؤنٹرمیں انہیں ہلاک کردیاتھا۔ اسی انداز میں ،وی سی سنجنار کی ٹیم نے ہی یہ انکاؤنٹر کیا۔ورنگل صرف اتنا فرق تھا کہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا ، لیکن کہا جارہا ہے کہ پورا منصوبہ وی سی سنجنارکا ہی تھا۔
First published: Dec 06, 2019 10:54 AM IST