உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Mosque: کیوں ہونے جارہا ہے گیان واپی مسجد کا سروے؟ مسلم فریق اور سنت سماج کیوں ہیں آمنے سامنے؟

    Youtube Video

    Varanasi Gyanvapi Mosque Premises Survey: انجمن انتظامیہ مسجد کے جوائنٹ سکریٹری ایس این یسین نے کہا کہ جب یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اس علاقے کے اندر صرف مسلمان یا سیکورٹی اہلکار ہی آسکتے ہیں تو کیا اس قانون کو چھوڑ دیا جائے؟ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو اندر آنے نہیں دیا جائے گا۔

    • Share this:
      Varanasi Gyanvapi Mosque Premises Survey: اتر پردیش میں وارانسی کی گیان واپی مسجد کمپلیکس کی ویڈیو گرافی اور سروے کا کام آج سے شروع ہو رہا ہے۔ وارانسی سول کورٹ کے حکم کے بعد یہ کام کیا جا رہا ہے۔ گیان واپی مسجد وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر سے ملحق ہے۔ مسجد کے احاطے کی ویڈیو گرافی آج کی جانی ہے۔ گیان واپی مسجد کمپلیکس کا سروے آج سہ پہر 3 بجے سے کیا جائے گا۔ پورے سروے میں تین سے چار دن لگنے کی امید ہے۔ اس دوران ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی ہوگی۔ آئیے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ وارانسی میں گیانواپی مسجد کمپلیکس میں یہ سروے اب کیوں کرایا جا رہا ہے۔

      گیان واپی مسجد کا سروے کیوں؟
      دراصل، عدالت میں پانچ خواتین ریکھا پاٹھک، سیتا ساہو، لکشمی دیوی، منجو ویاس اور راکھی سنگھ کی طرف سے درخواست دائر کی گئی تھی۔ پانچ درخواست گزار خواتین نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ شرنگار گوری مندر میں روزانہ پوجا کی اجازت دی جائے۔ عدالت سے اجازت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ شرنگار گوری کا مندر گیان واپی مسجد احاطے میں موجود ہے اور مسجد کی دیوار سے ملحق ہے۔ یہ درخواست گزشتہ سال 18 اگست کو عدالت میں دائر کی گئی تھی۔ وارانسی سول کورٹ کا حکم 26 اپریل کو آیا تھا۔ حکم نامے میں ایک کمیشن کا تقرر کیا گیا تھا اور اس کمیشن کو 6 اور 7 مئی کو دونوں فریقین کی موجودگی میں شرنگار گوری کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور 10 مئی تک عدالت نے اس کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Anti-Encroachment Drive:شاہین باغ میں 9 مئی کو چلے گا بلڈوزر،دی گئی یہ دھمکی!

      مسلم اور ہندو فریق کیوں ہیں آمنے سامنے؟
      وارانسی کورٹ کے حکم کے بعد آج گیان واپی مسجد کا سروے ہونے جا رہا ہے، لیکن اس کو لے کر مسلم فریق اور سنت سماج کے درمیان جھگڑا ہو گیا ہے۔ وارانسی کی گیان واپی مسجد کے بارے میں ہندو فریق کا موقف ہے کہ مندر کو گرا کر مسجد بنائی گئی ہے، اس لیے انہیں شرنگار گوری مندر میں پوجا کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی گیان واپی مسجد مینجمنٹ کمیٹی عدالت کے حکم کے خلاف کھڑی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      حیدرآبادمیں بین المذاہب شادی قتل کیس میں2ملزمان گرفتار،فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت کی سفارش

      انجمن انتظامیہ مسجد کے جوائنٹ سکریٹری ایس این یسین نے کہا کہ جب یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اس علاقے کے اندر صرف مسلمان یا سیکورٹی اہلکار ہی آسکتے ہیں تو کیا اس قانون کو چھوڑ دیا جائے؟ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو اندر آنے نہیں دیا جائے گا۔ مسجد کمیٹی کے مطابق اگر ویڈیو گرافی کی گئی تو مسجد کی سیکیورٹی پر سمجھوتہ ہوگا اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے جب کہ سنت سمیتی کا اصرار ہے کہ ویڈیو گرافی کی مخالفت اس لیے کی جارہی ہے کیونکہ مندر کے واضح ثبوت سامنے آ جائیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: