ہوم » نیوز » وطن نامہ

ہریانہ کے وزیر اعلی کھٹر کا بڑا بیان ، آندولن سے ہوئے نقصان کی تلافی کیلئے لائیں گے قانون

Farmer Protest : ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے یہ بیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دیا ۔ کھٹر نے کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ کسانوں کے احتجاج اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔

  • Share this:
ہریانہ کے وزیر اعلی کھٹر کا بڑا بیان ، آندولن سے ہوئے نقصان کی تلافی کیلئے لائیں گے قانون
ہریانہ کے وزیر اعلی کھٹر کا بڑا بیان ، آندولن سے ہوئے نقصان کی تلافی کیلئے لائیں گے قانون

ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی حکومت عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے مظاہرین سے نقصان کی بھرپائی کرنے کا قانون لے کر آئے گی ۔ کھٹر نے یہ بیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دیا ۔ کھٹر نے کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ کسانوں کے احتجاج اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس سے پہلے ہریانہ کے وزیر اعلی نے کہا تھا کہ کچھ لوگ صرف اس لئے آندولن کررہے ہیں کہ انہیں مرکز کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنا ہے ۔


ہریانہ کے وزیراعلی نے کہا کہ دہلی میں ریاست کے اراکین پارلیمنٹ کے میٹنگ کی ، جس میں مارچ میں اسمبلی میں پیش ہونے والے ریاست کے بجٹ کو لے کر گفتگو کی ۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج پر کھٹر نے کہا کہ مرکز نے یہ واضح کردیا ہے کہ تینوں زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے ہیں اور اس کے ذریعہ زراعت کے شعبہ میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی ۔ بیان کے مطابق کھٹر نے کہا کہ کچھ لوگ صرف مخالفت ظاہر کرنے کیلئے احتجاج کررہے ہیں ۔


اس سے پہلے کھٹر نے ریاست میں کسانوں کے خوش ہونے کا دعوی کرتے ہوئے منگل کو بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت اور گرمان سنگھ چڈھونی پر نشانہ سادھا تھا اور الزام لگایا کہ کچھ مایوس لیڈر کسانوں کا استعمال اپنے مفادات کے حصول کیلئے کررہے ہیں ۔


دہلی میں 26 جنوری کو تشدد کے بعد کسان آندولن اپنی رفتار کھونے لگا تھا ، لیکن اترپردیش سے بی کے یو لیڈر راکیش ٹکیت کی جذباتی اپیل کے بعد مظاہرہ میں نئی جان آگئی تھی۔ ٹکیٹ نے گزشتہ ایک ہفتہ میں ہریانہ میں کئی کسان مہاپنچایتوں کو خطاب کیا ہے ۔

کھٹر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ تین زرعی قوانین کو کسانوں کے مفادات کو دھیان میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے ، لیکن کچھ مایوس لیڈران ہیں ، جن کا ارادہ کچھ اور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواہ وہ چڈھونی ہوں یا راکیش ٹکیت ، وہ کسانوں کے مفاد میں کچھ نہیں کررہے ہیں ۔ اس کی بجائے وہ کسانوں کا استعمال اپنے مفادات کی سپلائی کرنے کیلئے کررہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 13, 2021 11:56 PM IST