ہوم » نیوز » وطن نامہ

کیا حکومت کی اسکیمیں دیہی علاقوں میں صاف صفائی کی عادت میں تبدیلی لاپائیں گی؟

صاف پانی کی فراہمی اور بیت الخلاء کی تعمیر کے بعد اب اگلا قدم کیا ہے؟

  • Share this:
کیا حکومت کی اسکیمیں دیہی علاقوں میں صاف صفائی کی عادت میں تبدیلی لاپائیں گی؟
کیا حکومت کی اسکیمیں دیہی علاقوں میں صاف صفائی کی عادات میں تبدیلی لاپائیں گی؟

آئیے سیدھے کچھ حقائق کے بارے میں جانتے ہیں ۔ کورونا وائرس کے قہر نے ہماری زندگیوں میں تباہی مچادی اور ہم سے بہت ساری زندگیاں اور آزادی چھین لی ۔ ضروری ویکسین کے علاوہ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے جو سب سے موثر طریقہ ہے وہ یہ کہ ہم اپنے ہائیجین کا خیال رکھیں ، ہاتھ دھوئیں ، کپڑے اور اشیا کو جراثیم سے پاک کریں اور اپنے گرد و ںواح صاف ستھرائی رکھیں وغیرہ وغیرہ  ، جو کرنے کیلئے سب سے بنیادی چیزیں ہیں ۔ اب ان ضروریات کو دیہی علاقوں کے تناظر میں دیکھیں تو یہ سب زیادہ بنیادی چیزیں نہیں لگتی ہیں ۔


یہ کوئی خبر نہیں ہے جب بات صاف پانی تک کی رسائی کی آتی ہے تو دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پریشان ہونا پڑتا ہے ۔ آبی بحران انہیں بری طرح سے متاثر کررہا ہے اور حکومت نے بھی اس سمت میں اقدامات کئے ہیں ۔ سوجل یوجنا میں سرکار تقریبا 700 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے ، جو تقریبا 115 اضلاع میں توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرے گا ۔ اس کا واحد مقصد دیہی علاقوں میں پانی کی کمی کو دور کرنے اور ان کے پینے کے قابل پانی تک مسلسل رسائی میں مدد کرنا ہے ۔ اس کے ہائیجین اور سینیٹیشن کا حصہ اس حقیقت سے طے ہورہا ہے کہ یہ اسکیم فیٹیڈ پائیپوں کے ذریعہ ہوگی ۔


سوچھ بھارت ابھیان ، جس کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی تھی ، ملک کو صاف ستھرا کرنے کیلئے بھی کام کررہا ہے ۔ شروعات میں جن پیرامیٹرز کو مستحکم اور پورا کیا گیا تھا ، ان میں سے ایک ملک بھر میں 110 ملین بیت الخلاء کی تعمیربھی تھا ، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں کھلے میں قضائے حاجت زندگی کا ایک طریقہ ہے ۔


احمد آباد میں ایک مجمع میں اکتوبر 2016 میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا تھا کہ پانچ سالوں میں 100 ملین بیت الخلاوں کی تعمیر اور 600 ملین لوگوں کی اس تک رسائی کپ ساتھ ہی ہندوستان کھلے میں قضائے جاحت کی لعنت سے پاک ہوگیا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک یادگار حصولیابی ہے اور کھلے میں قضائے حاجت اور اس کے نتیجہ میں معاشرتی و معاشی افراتفری کو ختم کرنے میں یقینی طور پر ایک طویل سفر طے کرے گا ، لیکن اب عوام کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ ان سہولیات کا استعمال کریں اور اپنی ہائیجین اور سینیٹیشن کو ترجیح دیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 24, 2021 03:55 PM IST