آج سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس:شہری ترمیمی بل کے ذریعہ غیرمسلم پناہ گزینوں کوشہریت دینے کی تیاری

سرمائی اجلاس کے دوران حکومت شہری ترمیمی بل کوپاس کروانے کی تیاری میں ہے جو بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کا مقصد پڑوسی ممالک سے آنے والے غیرمسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینا ہے۔

Nov 18, 2019 09:02 AM IST | Updated on: Nov 18, 2019 10:03 AM IST
آج سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس:شہری ترمیمی بل کے ذریعہ غیرمسلم پناہ گزینوں کوشہریت دینے کی تیاری

سرمائی اجلاس کے دوران حکومت شہری ترمیمی بل کوپاس کروانے کی تیاری میں ہے جو بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کا مقصد پڑوسی ممالک سے آنے والے غیرمسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینا ہے۔(نیوز18)۔

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کےدوران حزب مخالف جموں و کشمیر کی صورتحال، معاشی مندی (کساد بازاری)، مہنگائی، بے روزگاری، ماحولیاتی آلودگی اور کئی دیگر مسائل کو لیکرحکومت پردباؤ بنانے کی کوشش کرے گا۔ جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کا امکان ہے۔ اس سیشن میں حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ شہری ترمیمی بل پیش کرے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کی جانب سے منعقد کل جماعتی اجلاس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے کہا کہ سیشن کے دوران کشمیر کی صورتحال، وہاں کے رہنماؤں کی نظر بندی، مہنگائی، بے روزگاری، معاشی مندی اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کو زوروشور سے اٹھایا جائے گا جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پارٹیوں سےسرمائی اجلاس کے دوران تعمیری تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

میٹنگ میں مرکزی وزیر تھاورچند گہلوت، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر آنند شرما، ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن، لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر چراغ پاسوان اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو، تیلگودیشم پارٹی کے جے دیو گلا اور وی وجے سائی ریڈی بھی شامل تھے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ بلائی گئی اس میٹنگ کا انعقاد پارلیمانی امورکےوزیر پرہلاد جوشی اورپارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن میگھوال نے کیا۔ لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ہفتہ کو سبھی سیاسی جماعتوں سے ایوان کو بہترطریقے سے چلانے کے لئے تعاون کی اپیل کی تھی۔ میٹنگ میں مرکزی وزیر تھاورچند گہلوت، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر آنند شرما، ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن، لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر چراغ پاسوان اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو، تیلگودیشم پارٹی کے جے دیو گلا اور وی وجے سائی ریڈی بھی شامل تھے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ بلائی گئی اس میٹنگ کا انعقاد پارلیمانی امورکےوزیر پرہلاد جوشی اورپارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن میگھوال نے کیا۔ لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ہفتہ کو سبھی سیاسی جماعتوں سے ایوان کو بہترطریقے سے چلانے کے لئے تعاون کی اپیل کی تھی۔

Loading...

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈراورکانگریس کے سینیئررہنماغلام نبی آزاد نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کے سینیئررہنما فاروق عبد اللہ کووِنٹرسیشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری سابقہ روایت رہی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کےخلاف مقدمے کی سماعت چل رہی ہوتوانہیں ایوان کی اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دی جاتی تھی۔یادرہے کہ عبد اللہ تین ماہ کے زیادہ عرصے سے نظر بند ہیں۔ انہیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں حصہ لینے کی جازت دی جانی چاہیے ۔

کانگریس کےسینیئررہنما آنندشرما نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو ملک کے کسی بھی حصے میں جانے کا حق ہے۔ ترنمول کانگریس کےرہنما بندوپادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی مہنگائی، قیمتوں کے آسمان پر ہونے اور بے روزگاری کے مسائل اٹھائے گی۔عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی ایک قومی بحران کے طور پر سامنے آرہاہے۔ حکومت کو اس مسئلے پر وسیع پیمانے پر بحث کرواکر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔غورطلب ہے کہ حکومت اس سیشن کے دوران کم از کم 27 بل پیش کرے گی۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ دو اہم آرڈیننس کو قانون میں تبدیل کروالے۔

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے اتوارکو کل جماعتی میٹنگ میں یقین دہانی کرائی کہ حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تمام موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیارہے۔ جبکہ اپوزیشن نے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اور جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو حراست میں رکھے جانے کا موضوع اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد ازجلد چھوڑنے اورایوان میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے اتوارکو کل جماعتی میٹنگ میں یقین دہانی کرائی کہ حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تمام موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیارہے۔ جبکہ اپوزیشن نے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اور جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو حراست میں رکھے جانے کا موضوع اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد ازجلد چھوڑنے اورایوان میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

انکم ٹیکس ایکٹ 1961 اور فائینانس ایکٹ 2019 میں ترمیمات کو مؤثر بنانے کے لیے ستمبر میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس کا مقصد نئی اور گھریلو مینوفیکچررکمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی لاکرمعاشی مندی کوروکنا اورترقی کوفروغ دینا ہے۔ دوسرا آرڈیننس بھی ستمبر میں جاری کیا گیا تھا جس میں ای سگریٹ اور اسی طرح کی اشیاء کی فروخت، پیداواراورذخیرہ اندوزی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں بے مثال اکثریت کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آنے والی بی جے پی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا جاری مدت کار میں دوسرا پارلیمانی اجلاس ہے۔غور طلب ہے کہ حکومت کے لیے پارلیمنٹ کا پہلاسیشن کافی بہتررہا۔ حکومت کی جانب سے تین طلاق کو فوجداری میں ڈالنا، قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو مزید طاقتور بنانے جیسے کئی اہم بل دونوں ایوانوں میں پاس ہوئے۔

گذشتہ پارلیمانی اجلاس میں جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی آئین ہند کی دفعہ 370 کو بے اثر کرنے اور اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی دونوں ایوانوں سے پاس کروانے میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی۔13 دسمبرتک چلنے والے سرمائی اجلاس کے دوران حکومت شہری ترمیمی بل کوپاس کروانے کی تیاری میں ہے جو بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کا مقصد پڑوسی ممالک سے آنے والے غیرمسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے سیشن کے دوران اپنی کام کی فہرست میں اس بل کو بھی رکھا ہے۔حکومت نے اس بل کو اپنی پہلی مدت کارمیں بھی پیش کیا تھا لیکن اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کے سبب اسے پاس نہیں کرواسکی۔ اپوزیشن نے اس بل کی تنقید کرتے ہوئے اسے مذہبی خطوط پرتفریق اورتفرقہ ڈالنے والا قراردیاتھا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے کی اپیل

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرسے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران اپوزیشن سے تعمیری تعاون دینے اور اس دوران زیادہ سے زیادہ قانون سازی سے متعلق اور دیگر کام کاج نمٹانے کی درخواست کی پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کی جانب سے اتوار کو یہاں بلایا گئی میٹنگ میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے زیادہ سے زیادہ تعاون کی توقع کرتی ہے نئے چہروں کے ساتھ پارلیمنٹ میں نئی سوچ آئے گی، تب ہی نیا ہندوستان بنے گا۔پی ایم مودی نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ سیشن خاص اہمیت کا حامل ہوگا، کیونکہ اس دوران راجیہ سبھا کا 250 واں سیشن ہو گا اس دوران مخصوص کام کاج اور سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی تیار کی گئی ہو گی اس سیشن کے دوران ایوان بالا کو ہندوستانی پارلیمنٹ کی طاقت دکھانے کا حیرت انگیز موقع ملے گا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے سبھی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ یہ سیشن گزشتہ سیشن سے بھی بہترین اوریادگارہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایوان کے ضوابط اور عمل کے دائرے میں سبھی موضوعات پرتبادلہ خیال کے لئے تیارہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ کسی پارلیمنٹ کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں کیسے لیا جاسکتا ہے؟ اسے پارلیمنٹ میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے سبھی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ یہ سیشن گزشتہ سیشن سے بھی بہترین اوریادگارہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایوان کے ضوابط اور عمل کے دائرے میں سبھی موضوعات پرتبادلہ خیال کے لئے تیارہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ کسی پارلیمنٹ کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں کیسے لیا جاسکتا ہے؟ اسے پارلیمنٹ میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

پی ایم مودی نے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے مخصوص مسائل اٹھائے جانے پر کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر طریقے سے کام کرنا چاہتی ہے، جس سے زیر التواء بلوں کے ساتھ ساتھ ماحول اور آلودگی، اقتصادی، زرعی اور کسانوں کے مسائل کا پالیسی پر مبنی حل ہو سکے ۔ وہ معاشرے کے محروم نوجوانوں اور خواتین کے حقوق کو حل چاہتے ہیں۔انہوں نے لوک سبھا چیئرمین اورراجیہ سبھا کے چیئرمین کو پارلیمنٹ کے گزشتہ سیشن کے حسن طریقے سے چلنے پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ چلنے سے لوگوں میں مثبت سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن سرمائی اجلاس کے دوران مثبت رویہ اپنا ئے گے جس سے یہ سیشن کامیاب اور بہتر کام کاج نمٹانے والا ثابت ہوگا۔

Loading...