ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلم پرسنل بورڈ نے سپریم کورٹ میں کہا : نماز پڑھنے کیلئے مسجد میں جاسکتی ہیں خواتین ، فتووں پر توجہ نہ دیں

بورڈ نے عدالت عظمی میں داخل کئے گئے ایک حلف نامہ میں کہا کہ مسلم خواتین مسجد میں جانے کیلئے آزاد ہیں ۔ حالانکہ وہ ایسا کرنے کیلئے پابند نہیں ہیں ۔

  • Share this:
مسلم پرسنل بورڈ نے سپریم کورٹ میں کہا : نماز پڑھنے کیلئے مسجد میں جاسکتی ہیں خواتین ، فتووں پر توجہ نہ دیں
مسلم پرسنل بورڈ نے سپریم کورٹ میں کہا : نماز پڑھنے کیلئے مسجد میں جاسکتی ہیں خواتین

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بدھ کو سپریم کورٹ میں کہا کہ خواتین کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دیدی گئی ہے اور اس سلسلہ میں اگر کوئی فتوی جاری کرتا ہے تو اس پر توجہ نہ دیں ۔ بورڈ نے عدالت عظمی میں داخل کئے گئے ایک حلف نامہ میں کہا کہ مسلم خواتین مسجد میں جانے کیلئے آزاد ہیں ۔ حالانکہ وہ ایسا کرنے کیلئے پابند نہیں ہیں ۔ خواتین کے پاس یہ بھی متبادل موجود ہے کہ وہ گھر پر نماز پڑھ سکتی ہیں اس کی بجائے کہ وہ کسی گروپ یا مسجد میں نماز پڑھیں ۔


مسلم پرسنل لا بورڈ نے دو مسلم خواتین کے ذریعہ مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کیلئے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ایک عرضی کے جواب میں یہ جانکاری دی ۔ اس معاملہ میں عدالت کی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ مسجدوں کا نظم و نسق ذاتی طور پر چلایا جاتا ہے اور عدالتیں کسی مذہبی مقام کے نظم و نسق کے شعبہ نہیں جاسکتیں ۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت صرف مشورہ دے سکتی ہے ، کسی طرح کی ہدایت نہیں جاری کرسکتی ۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں عدالت نے یاسمین زبیر احمد پیرزادہ اور زبیر احمد نظیر پیر زادہ کی عرضی پر نوٹس جاری کیا تھا ، جنہوں نے کہا تھا کہ ملک بھر کی مسجدوں میں مسلم خواتین پر پابندی غیر آئینی ہے اور زندگی ، برابری اور صنفی انصاف کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

First published: Jan 29, 2020 11:48 PM IST