உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka: حجاب تنازع پر کانگریس لیڈر نے کہا : ہندوستان میں سب سے زیادہ ریپ اس لئے ہوئے کیونکہ...

    Karnataka: حجاب تنازع پر کانگریس لیڈر نے کہا : ہندوستان میں سب سے زیادہ ریپ اس لئے ہوئے کیونکہ...

    Karnataka: حجاب تنازع پر کانگریس لیڈر نے کہا : ہندوستان میں سب سے زیادہ ریپ اس لئے ہوئے کیونکہ...

    Karnataka Hijab Row: کرناٹک میں جاری حجاب تنازع کے درمیان کانگریس کے لیڈر ضمیر احمد نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان میں آبروریزی کے معاملات کی ایک بڑی تعداد درج ہے ، کیونکہ یہاں خواتین حجاب نہیں پہنتی ہیں ۔

    • Share this:
      ہبلی : کرناٹک میں جاری حجاب تنازع کے درمیان کانگریس کے لیڈر ضمیر احمد نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان میں آبروریزی کے معاملات کی ایک بڑی تعداد درج ہے ، کیونکہ یہاں خواتین حجاب نہیں پہنتی ہیں ۔ احمد نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے کہا کہ لڑکیاں جب بڑی ہوجاتی ہیں ، تو انہیں اپنی خوبصورتی کو چھپانے کیلئے اپنے چہرے کو گھونگھٹ سے ڈھک لینا چاہئے ، مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبروریزی کے معاملات ہندوستان میں ہیں ، کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا چہرہ نہیں ڈھکتے نہیں ۔ حجاب پہننا لازمی نہیں ہے اور یہ سالوں سے چلا آرہا ہے ۔

      کانگریس لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دو دن پہلے گیارہ فروری کو کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازع سے وابستہ عرضیوں پر عبور حکم جاری کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی اپیل کی تھی ۔ ساتھ ہی طلبہ کو بھی کلاس کے اندر بھگوا شال ، گمچھا ، حجاب یا کسی طرح کا مذہبی جھنڈہ وغیرہ لے جانے سے روک دیا تھا ۔


      عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حکم صرف ایسے اداروں پر لاگو ہوگا ، جہاں کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی نے طلبہ کیلئے ڈریس کوڈ یا یونیفارم کو لاگو کیا ہے ۔

      اس درمیان کرناٹک کے وزیر اعلی نے ریاست بھر میں دسویں جماعت تک کے ہائی اسکولوں کے پھر سے کھلنے سے ایک دن پہلے اتوار کو اس یقین کا اظہار کیا کہ امن اور معمول کی صورتحال بحال ہوگی ۔ ریاست میں حجاب کو لے کر جاری تنازع کی وجہ سے ان اسکولوں کو بند کردیا گیا تھا ۔

      وزیر اعلی نے کہا کہ پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کو پھر سے کھولنے کے سلسلہ میں فیصلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: