உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تو لڑکیاں آوارہ ہوجائیں گی، بیان پر بھڑکے مختار عباس نقوی، کہہ دی یہ بڑی بات

    Mukhtar Abbas Naqvi News: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ہفتہ کے روز کہا کہ خواتین کی آزادی، احترام، با اختیار بنانے اور آئینی مساوات پر ’طالبانی سوچ اور سنک‘ ہندوستان میں نہیں چلے گی۔

    Mukhtar Abbas Naqvi News: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ہفتہ کے روز کہا کہ خواتین کی آزادی، احترام، با اختیار بنانے اور آئینی مساوات پر ’طالبانی سوچ اور سنک‘ ہندوستان میں نہیں چلے گی۔

    Mukhtar Abbas Naqvi News: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ہفتہ کے روز کہا کہ خواتین کی آزادی، احترام، با اختیار بنانے اور آئینی مساوات پر ’طالبانی سوچ اور سنک‘ ہندوستان میں نہیں چلے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ہفتہ کے روز کہا کہ خواتین کی آزادی، احترام، با اختیار بنانے اور آئینی مساوات پر ’طالبانی سوچ اور سنک‘ ہندوستان میں نہیں چلے گی۔ انہوں نے قومی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ منعقدہ ’یوم اقلیت’ پروگرام میں یہ تبصرہ اس وقت کیا ہے، جب حال ہی میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 21 سال کرنے کے حکومت کے فیصلے کا سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق اور ایس ٹی حسن اور کچھ دیگر لوگوں نے مخالفت کی ہے۔ ’یوم اقلیت‘ تقریب میں وزیر مملکت برائے اقلیتی امور جان بارلا، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ، نائب صدر عاطف رشید اور کئی دیگر موجود تھے۔

      مختار عباس نقوی نے کسی کا نام لئے بغیرکہا کہ کبھی تین طلاق کی بد دیانتی کو روکنے کے لئے قانون بنانے کی مخالفت، کبھی مسلم خواتین کو ’محرم‘ (قریبی رشتہ دار) کے ساتھ ہی سفر حج کی رکاوٹ ختم کرنے پر سوال اور اب لڑکیوں کی شادی کی عمر کے معاملے میں آئینی مساوت پر ہنگامہ کرنے والے لوگ آئین کے بنیادی اقدار کے ’پیشہ ور مخالف‘ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ’خواتین کی آزادی، احترام، بااختیار بنانے اور آئینی مساوات پر ’طالبانی سوچ اور سنک‘ ہندوستان میں نہیں چلے گی۔

      مرکزی وزیر نے کہا، ’... کچھ بیان مجھے حیران کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 21 سال کی عمر میں شادی کرنے پر لڑکیاں آوارہ ہو جائیں گی۔ وہ آوارہ کیوں بنیں گی؟ کیا آپ کو ان پر بھروسہ نہیں ہے؟ ایسی ذہنیت صرف ’طالبانی‘ ہوسکتی ہے، ہندوستانی نہیں‘...۔


      مودی حکومت نے اقلیتوں کی خوشنودی کو تباہ کردیا


      مختار عباس نقوی کے مطابق، 'اقلیتوں کی خوشنودی کے سیاسی فریب' کو مودی حکومت نے تباہ کیا ہے۔ ہندوستانی اقلیتوں کے تحفظ،'مکمل با اختیار بنانے اور احترام، ’آئینی متبادل‘ اور ہندوستانی سماج کی ’مثبت سوچ‘ کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان کے اکثریتی سماج کی سوچ، اپنے ملک کے اقلیتوں کے تحفظ، احترام اورعزم کے اقدار سے بھر پور ہے۔


      مسلم لڑکیوں کا اسکول ڈراپ آوٹ ریٹ صفرفیصد کرنا ہمارا ہدف


      مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا، ’مودی حکومت نے 2014 کے بعد 6 اقلیتی برادریوں (پارسی، جین، بودھ، سکھ، عیسائی اور مسلم) کے 5 کروڑ سے زیادہ طلبا کو اسکالر شپ فراہم کی۔ مستفضین میں 50 فیصد سے زیادہ لڑکیاں شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلم لڑکیوں کا اسکول ڈراپ آوٹ ریٹ جو پہلے 70 فیصد تھا، اب گھٹ کر تقریباً 30 فیصد سے کم رہ گیا ہے، آنے والے دنوں میں صفر فیصد سے کم رہ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں صفر فیصد کرنا ہمارا ہدف ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: