ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں احتجاج جاری ، خصوصی دعا و اذکار کا اہتمام

دھرنے پر بیٹھی خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت یا کسی فرد واحد کے خلاف نہیں ہیں ، بلکہ حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف اپنے جمہوری حق کا استعمال کر رہی ہیں ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں احتجاج جاری ، خصوصی دعا و اذکار کا اہتمام
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں احتجاج جاری ، خصوصی دعا و اذکار کا اہتمام

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف گزشتہ پانچ دنوں سے جاری خواتین کے احتجاجی دھرنے میں اب دعاؤں اور عبادتوں کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے ۔ الہ آباد شہر کے روشن باغ میں ہزاروں خواتین شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف  گزشتہ پانچ دنوں سے سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں ۔ احتجاجی دھرنے میں شہریت ترمیمی قانون مخالف تقریروں کے ساتھ ساتھ خواتین جم کر نعرے بازی  بھی کر رہی ہیں ۔


اسی درمیان مسلم خواتین نے نعروں اور احتجاجی تقریروں کے درمیان  خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کیا ۔ بہت سی خواتین نہ صرف دھرنے میں پنج گانہ نمازوں کا اہتمام کر رہی ہیں ۔ بلکہ خصوصی دعاؤں اور اذکار کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے ۔ احتجاجی دھرنے کے پانچویں روز بھی خواتین کے جوش و جذبے میں کسی طرح کی کمی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی ، اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا ۔


دھرنے پر بیٹھی خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت یا کسی فرد واحد کے خلاف نہیں ہیں  ، بلکہ حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف اپنے جمہوری حق کا استعمال کر رہی ہیں ۔ شہر کے روشن باغ علاقے میں واقع تاریخی منصورعلی پارک میں ہزاروں خواتین دن رات دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ اس احتجاجی دھرنے میں گرچہ مسلم خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔ تاہم انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی کارکنان اور بائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی طالبات کی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔


خواتین نہ صرف دھرنے میں پنج گانہ نمازوں کا اہتمام کر رہی ہیں ۔ بلکہ خصوصی دعاؤں اور اذکار کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے ۔
خواتین نہ صرف دھرنے میں پنج گانہ نمازوں کا اہتمام کر رہی ہیں ۔ بلکہ خصوصی دعاؤں اور اذکار کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے ۔


احتجاجی دھرنے میں شامل الہ آباد یونیورسٹی کی طالبہ نیہا یادو کا کہنا ہے کہ حکومت نے شہریت قانون لا کر ایک بڑی غلطی کی ہے ، کیوں کہ یہ قانون مذہبی تفریق پر قائم کیا گیا ہے ۔ ایسے میں ملک کے تمام شہریوں کو اس قانون کی مخالفت کرنی چاہئے ۔ احتجاجی جلسے میں خواتین پورے عزم کے ساتھ موجود ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لیتی ، احتجاجی دھرنے کو ختم نہیں کیا جائے ۔ احتجاجی دھرنے کی ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس میں شامل بیشتر خواتین تعلیم یافتہ ہیں اور پہلی بار کسی عوامی احتجاج میں شرکت کر رہی ہیں ۔
First published: Jan 18, 2020 08:48 PM IST