ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اب لکھنو کی سڑکوں پر بھی اتریں خواتین ، گھنٹہ گھر پر احتجاج

دہلی کے شاہین باغ کی طرح لکھنئو کے گھنٹہ گھر پر بھی شدید سردی کے باوجود احتجاج درج کیا جارہا ہے۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اب لکھنو کی سڑکوں پر بھی اتریں خواتین ، گھنٹہ گھر پر احتجاج
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اب لکھنو کی سڑکوں پر بھی اتریں خواتین ، گھنٹہ گھر پر احتجاج

لکھنئو کی خواتین بھی اب سی اے اے اور این آرسی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے سڑکوں پر اتر آئی ہیں ۔ اپنے آنچل کو پرچم بنارہی ہیں ۔ دہلی کے شاہین باغ کی طرح لکھنئو کے گھنٹہ گھر پر بھی شدید سردی کے باوجود احتجاج درج کیا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب چہار دیواری کے اندر مقید رہنے والی خواتین گھروں سے سڑکوں  پر نکل آئیں ، توانقلاب آہٹ دینے لگتاہے اور ایوانوں کی آہنی دیواریں ان دستکوں اور آہٹوں کو محسوس کرنے لگتی ہیں ۔ این آرسی اور سی اے اے کی مخالفت میں جس انداز سے لکھنئو میں خواتین اور معصوم بچوں کا مظاہرہ شروع ہوا وہ چونکانے والا ہے ۔


رات کی تاریکی میں چند حوصلہ مند خواتین نے بی جے پی اقتدار والی  یوگی حکومت کے سخت رویوں اور کسی بھی طرح کا احتجاج نہ کرنے کے احکامات کے باوجود بھی لکھنئو کے گھنٹہ گھر کے نیچے اپنے حوصلوں کی میخیں گاڑکر احتجاج کے خیمے نصب کردئے۔ گزشتہ شب پولس نے خواتین کو زد وکوب کرنے کی کوشش بھی کی ، کہا سنی خوب ہوئی اور  معمولی سی جھڑپ بھی۔ بالاخر احتجاج  شروع ہوا اوردیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں خواتین لکھنئو کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سائے میں بغیر سائبان کے بیٹھ گئیں ۔ شدید ٹھنڈ ، کہرے اور پالے کی مار اور اس پرپولس اور حکومت کے خلاف خواتین کی جراٗتِ انکار۔


خیال رہے کہ 19 دسمبر کو جس انداز سے صدف جعفر کو گرفتار کیا گیا اور پھر کئی دن بعد ان کی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد انہیں چھوڑا گیا ، اس کو لے کر بھی خواتین میں کافی غم وغصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پولیس کے ذریعے کئے گئے ناروا سلوک کے بعد بھی صدف جعفر کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے ہیں ۔ سیکڑوں خواتین کے ساتھ وہ بھی لکھنئو کے مظاہرے اور احتجاج کا اہم حصہ بنی رہیں۔


صدف جعفر کہتی ہیں کہ اب حکومت کی عوام مخالف پالیسیاں اور پولیس مظالم پوری دنیا پر عیاں ہوچکی ہیں ۔ جب مردوں اور نو جوانوں پر مظالم کا سلسلہ دراز ہوا ہے ، تو بحالت مجبوری خواتین کو آئین ودستور کے تحفظ کے لئے آگے آنا پڑا ہے ۔ اپنے گھر کا عیش و آرام چھوڑنا پڑاہے ۔ معروف شاعر منور رانا کی بیٹی سمیہ رانا کہتی ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں دبے کچلے مظلوموں کے خلاف ہیں ۔ جن لوگوں پر نوازشیں ہونا چاہئیں تھیں ، ان کے خلاف سازشیں اور پتھروں کی بارشیں  ہورہی  ہیں۔ اس سے برا وقت کیا ہوسکتا ہے کہ مہذب گھرانوں کی لڑکیاں اور عورتیں اب سڑکوں پر اتر آئی ہیں ۔

رفعت فاطمہ کے مطابق لکھنئو کی تہذیب اور ادب کے گن گان گانے والے لوگ یہ بھی دیکھ لیں کہ آج لکھنئو کی عورتیں کتنی مجبور و بے سہارا ہیں اور بے بسی کے عالم میں حکومت سے اپنے عوامل پر نظر ثانی کی درخواست کررہی ہیں ۔ لکھنئویونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی روپالی کہتی ہیں کہ موجودہ حکومت لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے اقتدار میں بنے رہنے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ ایسی پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہتی ہے ، جن سے بڑے طبقے کو ووٹ جیسے آئینی اور دستوری حق سے ہی محروم کردیا جائے۔ ساتھ ہی روپالی اس عزم کا اظہار بھی کرتی ہیں کہ امت شاہ ، مودی و یوگی کے اس خواب کو پورا نہیں ہونے دیاجائے گا۔

مظاہرہ میں شامل بزرگ خواتین کہتی ہیں کہ زنجیرِ عدل وانصاف ہلائی جاتی رہے گی ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آوازوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، دبایا جا رہا ہے ، ہمارے بچوں ،  نوجوانوں اور بچیوں پر پولیس ظلم برپا کررہی ہے ، لیکن ہم ملک کے آئین ودستور اور جمہوریت کے کل بھی قائل تھے اور آج بھی قائل ہیں ۔ اپنے دستور وجمہور کو بچانے کے لئے ملک کی قومی یکجہتی ہندو مسلم ایکتا اور قدیم گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے لئے ہر ممکن قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔
First published: Jan 18, 2020 10:16 PM IST