ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

رانچی:سی اے اے کے خلاف شاہین باغ میں غیر معینہ مدت احتجاجی دھرنے کا اہتمام، خواتین کی بڑی تعدادکی شرکت

رانچی کے کڈرو واقع حج ہاؤس کے روبرو دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر سی اے اے ۔ این آر سی ۔ این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

  • Share this:
رانچی:سی اے اے کے خلاف  شاہین باغ میں غیر معینہ مدت احتجاجی دھرنے کا اہتمام، خواتین کی بڑی تعدادکی شرکت
رانچی کے کڈرو واقع حج ہاؤس کے روبرو دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر سی اے اے ۔ این آر سی ۔ این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

شہریت ترمیمی قانون ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف دارالحکومت رانچی سمیت ریاست کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی ضمن میں رانچی کے کڈرو میں واقع حج ہاؤس کے روبرو دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر غیر معینہ مدت احتجاجی دھرنا کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ مختلف مذاہب کی خواتین پر مشتمل ہم بھارت کے لوگ نامی تنظیم کے تحت منعقد اس احتجاجی دھرنا کی شروعات پیر 20 جنوری سے ہوئی ہے ۔


رانچی: حج ہاؤس کے روبرو دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر غیر معینہ مدت احتجاجی دھرنا کا اہتمام۔(تصویر:نوشادعالم)۔
رانچی: حج ہاؤس کے روبرو دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر غیر معینہ مدت احتجاجی دھرنا کا اہتمام۔(تصویر:نوشادعالم)۔


اس دھرنا میں گھریلو خواتین ۔ سماجی خواتین ۔ طالبات کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ حیات سے جڑی خواتین شرکت کر رہی ہیں ۔ اس احتجاجی دھرنا میں بڑی تعقاد میں خواتین اپنے شیرخوار بچوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ شرکت کر رہی ہیں ۔ سخت سردی کے موسم کے باوجود ان خواتین کے حوصلے بلند ہیں اور مسلسل مرکزی حکومت کے اس قانون کو کالے قانون سے تعمیر کرتے ہوئے نعرے لگارہی ہیں ۔ اس دھرنے میں مجاہدین آزادی کی تصاویر اور آئین کے مرتب کار بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی کے پیغام لکھے تختیاں لئے نعرے لگانے میں مصروف ہیں ۔


 رانچی: احتجاجی دھرنا کی شروعات پیر 20 جنوری سے ہوئی ہے ۔ (تصویر:نوشاد عالم)۔
رانچی: احتجاجی دھرنا کی شروعات پیر 20 جنوری سے ہوئی ہے ۔ (تصویر:نوشاد عالم)۔


اس موقع پر سماجی کارکن شگفتہ یاسمین نے مرکزی حکومت اس قدم کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے تین طلاق کے موضوع پر جب وہ مسلم خواتین اور بہنوں کے فکر مند تھے تو ایسے قانون کے خلاف اٹھنے والی بہنوں کی آواز کو وہ سن لیں اور اسے واپس لیں ۔ وہیں غذالہ تسنیم نے کہا اس قانون کے ذریعہ ہندو مسلم کو بانٹا جارہا ہے ساتھ ہی کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ملک کی آزادی کے لئے قربانیاں پیش کی ہیں اور ان سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانکا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے ایسے میں حکومت کو سمجھنا چاہئے ۔
First published: Jan 21, 2020 05:13 PM IST