ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: مردوں کے سماج میں عورتوں نے سنبھالا قبرستان کے تحفظ کا مورچہ

ہمارے سماج میں مردوں کی بالا دستی ابتدا سے قائم ہے۔ حالانکہ خواتین نے اپنی ذہانت اور ہمت سے سبھی میدان میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ اس کے باوجود خواتین کو کمترکرکے دیکھنے کی باتیں ترقی یافتہ سماج میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: مردوں کے سماج میں عورتوں نے سنبھالا قبرستان  کے تحفظ کا مورچہ
مردوں کے سماج میں عورتوں نے سنبھالا قبرستان کے تحفظ کا مورچہ

بھوپال: ہمارے سماج میں مردوں کی بالا دستی ابتدا سے قائم ہے۔ حالانکہ خواتین نے اپنی ذہانت اور ہمت سے سبھی میدان میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ اس کے باوجود خواتین کو کمترکرکے دیکھنے کی باتیں ترقی یافتہ سماج میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بھوپال مسرود میں وقف قبرستان پر جب زمینی مافیاؤں کی دخل اندازی زیادہ بڑھی اور مردوں والی قبرستان کمیٹی انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے تو ایم پی وقف بورڈ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے قبرستان کے تحفظ کے لئے ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی، جس میں خواتین کو سبھی ذمہ داریاں دے دی گئی ہیں۔ خواتین کے اس کمیٹی نے برسوں سے زمینی مافیاؤں کے چنگل میں پڑی قبرستان کی زمین کو نہ صرف آزاد کرایا بلکہ اس کے سبھی دستاویزات وقف بورڈ، تحصیل اور ریوینو ریکارڈ سے بھی نکال کر پیش کر دیئے۔

یوں تو مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے زیر انتظام چودہ ہزار نو سو چودہ (14914) وقف املاک درج ہیں، مگر ان میں مسرود وقف قبرستان کمیٹی ہی ایسی ہے، جس کا سارا انتظامیہ خواتین کے سپرد ہے۔ 7 رکنی کمیٹی میں صدر، سکریٹری اور خازن کے عہدیے پرخواتین ہیں جبکہ ممبران میں 4 مرد ہیں۔ کمیٹی کی صدر فریدہ بانو، سکریٹری منور جہاں اورتحسین منصوری اس کی خازن ہیں۔ وقف بورڈ کے سی ای او محمد احمد خان کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ کمیٹی میں پہلی بارخواتین کو کام کرنے کا موقع ہے، لیکن انہوں نے اپنی ذہانت اور ہمت سے اچھا کام کیا ہے۔


ہمارے سماج میں مردوں کی بالا دستی ابتدا سے قائم ہے۔ حالانکہ خواتین نے اپنی ذہانت اور ہمت سے سبھی میدان میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ اس کے باوجود خواتین کو کمترکرکے دیکھنے کی باتیں ترقی یافتہ سماج میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ہمارے سماج میں مردوں کی بالا دستی ابتدا سے قائم ہے۔ حالانکہ خواتین نے اپنی ذہانت اور ہمت سے سبھی میدان میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ اس کے باوجود خواتین کو کمترکرکے دیکھنے کی باتیں ترقی یافتہ سماج میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔


وہیں کمیٹی کی صدر فریدہ بانو کہتی ہیں کہ مسرود میں قدیم قبرستان موجود ہے، جس ہمارے بزرگ دفن ہیں مگر زمینی مافیاؤں نے اس پر قبضہ کرنے کے لئے پہلے قبرستان میں لاکر مٹی اور ملبہ ڈال دیا تاکہ قبرستان کا وجود ختم ہو جائے۔ قبرستان کمیٹی میں شامل مردوں نے ابتدا میں اس کی مخالفت تو کی بعد ازاں انہوں نے زمینی مافیاؤں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مصلت پسندی کے چلتے خاموشی اختیار کر لی ہو۔ہم نے ابتدا میں جب قبرستان کے تحفظ کا کام شروع کیا ہمارے  اوپر بہت چھیٹا کشی کی گئی مگر ہم لوگ کسی نے نہیں گھبرائے اور فولاد بن کر وقف قبرستان کے تحفظ کے لئےکام کرتے رہے ۔ ہم نے وقف بورڈ اور کلکٹر کے بہت سے چکر لگائے ۔سبھی جگہ سے ہمیں کامیابی ملی اور لوگوں نے ہمیں تعاون بھی کیا۔ اب کوشش ہے کہ کسی طرح سے قبرستان کی باؤنڈری بن جائے تاکہ یہ قبرستان ہر طرح سے محفوظ ہوجائے ۔
وہیں کمیٹی کی خازن تحسین منصوری کہتی ہیں کہ جب ہم لوگوں نے قبرستان کے تحفظ کے لئے قدم اٹھایا تو لوگ ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ جب مرد کچھ نہیں کر سکے تو نازک کلائی والی کیا کرینگی ۔ہم لوگوں کو دھمکیاں بھی دی گئیں ۔ہم نے اللہ کی رضا کے لئے اپنے کام کو جاری رکھا ۔ہم جانتے تھے کہ ہم حق پر ہیں اور اللہ پر چلنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ہے ۔ہم نے سماج کے حق کی خاطر مورچہ کھولا ہے ۔ اب جبکہ منزل سامنے آگئی ہے تو دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور سکون بھی ہوتا ہے ۔ہم فریدہ بی جی اور منور باجی کے ساتھ ملکر کام کرتی تھی ۔ منور جہاں کا انتقال ہوگیا ہے اب ہم اور فریدہ باجی ہی مل کر تحریک چلا رہے ہیں ۔ کاغذی طور پر ہم نے جنگ جیت لی ہے ۔ اب ہماری کوشش ہے کہ اس کی باؤنڈری تعمیر ہو جائے ۔ سماج کے لوگوں سے اپیل کی ہے امید ہے اللہ کوئی راستہ جلدی ہموار کرے گا۔ وسط بھوپال سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ ان خواتین کے جذبہ اور ہمت کو سلام کرتاہوں ۔ نیوز ایٹین اردو پر میں نے تفصیلی رپورٹ دیکھی ہے ۔ ان شااللہ قبرستان کی باؤنڈری کی تعمیر کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 12, 2020 11:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading