உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    World Environment Day : یہ آخری شجر بھی بہت یاد آئے گا

    World Environment Day : یہ آخری شجر بھی بہت یاد آئے گا

    World Environment Day : یہ آخری شجر بھی بہت یاد آئے گا

    World Environment Day : یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ آج اگر ہم اپنے ماحول کی بقا کے لیے سنجیدہ نہیں ہوئے تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل گھٹن اور تاریکیوں کی نذر ہوجائے گا آج ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اپنے ماحول کو زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر محفوظ بنائیں ۔

    • Share this:
    World Environment Day : آج پوری دنیا میں یومِ ماحولیات منایا جارہا ہے ۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ، پیڑ بچاو جیون پاو  کے نعرے کی گونج ایک بار پھر سنائی دی ہے،  لیکن قابل غور پہلو یہ ہے کہ صرف ایک دن عہد کرنے اور بیداری کے ڈنکے پیٹنے سے کیا واقعی ماحولیات کو انسانی زندگی کے لیے بہتر بنایا جاسکتا ہے ، آلودگی دور کی جاسکتی ہے، چرند پرند کی زندگیوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور انسانوں کو سانس لےنے کے لئے وہ آب و ہوا اور فضا دی جاسکتی ہے جو اس کا قدرتی حق ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : عالمی یوم ماحولیات کے موقع ایم پی اقلیتی اداروں میں کی گئی شجرکاری


    یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ آج اگر ہم اپنے ماحول کی بقا کے لیے سنجیدہ نہیں ہوئے تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل گھٹن اور تاریکیوں کی نذر ہوجائے  گا آج ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اپنے ماحول کو زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر محفوظ بنائیں ۔ ایسی فضا پروان چڑھائیں جس میں ہماری نسلیں سکون کی سانس لے سکیں ایک زندہ قوم یقیناً عزم مصمم کی بدولت تمام اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی ۔

    ہم سایہ دار پیڑ زمانے کے کام آئے

    جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب راستے میں کوئی بھی سایہ  نہ پائے گا

    یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

     

    منور رانا اور اظہر عنایتی کے ان اشعار کے پس منظر میں ایک حساس کہانی سفر کررہی ہے ۔ اگر بدلتے ماحول کے پیش نذیر بڑھتی فضائی آلودگی  اس کے اسباب اور  دیگر مختلف پہلووں پر غور کیا جائے تو یہ احساس ہوتاہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس حوالے سے دنیا بھر میں ایک نئی حساسیت نے جنم لیا ہے جس کے اثرات ہمارےملک میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے جنگلات کا بے دریغ کٹان جاری ہے اور اسی وجہ سے قرہ ارض پر حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : جموں وکشمیر میں کیمیائی کھادوں کے استعمال سے زرعی زمین کو ہورہا کافی نقصان


    معروف دانشور ڈاکٹر مسیح الدین کہتے ہیں کہ مسلسل بڑھتی آبادی کےحواکے  سے یہ کہنا بیجا نہیں کہ ہندوستان میں بڑھتی آبادی کا اژدھا ملکی وسائل کوشنگلتا جا رہا  مسائل میں روز افزوں اضافہ  ہورہا ہے اگرملک کو سرسبز اور خوشحال دیکھنا ہے تو کئ سمتوں میں ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

    کل رات جو ایندھن کے لئے کٹ کے گرا ہے ۔

    چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

    معروف سماجی کارکن شائستہ عنبر کے مطابق انسانی بے حسی قدرتی اشیاء اور مناظر کے ساتھ کھلواڑ ،بے دریغ بڑھتی آبادی ، جنگلات کی کٹائی جیسے عوامل و اسباب نے ماحولیات کو انسانی زندگی کے منافی بنادیا ہے اور یہ کارگزاریاں ہماری تباہی کا سبب بن رہی ہیں حکومت کو چاہیے کہ اس طرف بھی توجہ دے. نئی کالونیاں بنانے والے زمینی مافیاؤں پربھی لگام کسی جائے  ہر سال یوم ماحولیات پر تحفظ کا عہد کیا جاتا ہے اور ہر سال لاکھوں درخت کاٹ دئے جاتے ہیں  اگر قول و عمل میں یکسانیت نہیں لائی گئے تو قرہِ عرض پر انسانی زندگی عذاب بن جائے گی۔

    اک شجر ایسا بھی محبت کا لگایا جائے

    جسکا ہم سائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: