بچپن میں ہی اپنے سوتیلے باپ سےجنسی استحصال کی شکارآفرین کا کیا یہ ویڈیو یاد ہے آپ کو،اگر نہیں تو دیکھئے

آفرین خان شاید نام سے اس لڑکی کو آپ نہ پہچانیں لیکن کچھ مہینے پہلے یو ٹیوب پر ایک ویڈیونے آفرین کو مرکز میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ا سلئے نہیں کہ ویڈیو کو 15 لاکھ بار دیکھا گیا،بلکہ اس لئے کہ آفرین نے جو کہا وہ کہنے کی ہمت سب کے بس کی بات نہیں ۔

Mar 23, 2018 09:34 PM IST | Updated on: Mar 23, 2018 09:34 PM IST
بچپن میں ہی اپنے سوتیلے باپ سےجنسی استحصال کی شکارآفرین کا کیا یہ ویڈیو یاد ہے آپ کو،اگر نہیں تو دیکھئے

نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے آفرین نے بتایا کہ کیسے اب کویتائیں اور اردو لوگوں میں کول سی بنتی جا رہی ہیں۔

نئی دہلی۔آفرین خان شاید نام سے اس لڑکی کو آپ نہ پہچانیں لیکن کچھ مہینے پہلے یو ٹیوب پر ایک ویڈیونے آفرین کو مرکز میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ا سلئے نہیں کہ ویڈیو کو 15 لاکھ بار دیکھا گیا،بلکہ اس لئے کہ آفرین نے جو کہا وہ کہنے کی ہمت سب کے بس کی بات نہیں ۔دہلی کے ایک اوپن مائک میں آفرین نے بچپن میں ہوئے جنسی استحصال کو ایک کویتا۔یعنی ایک کہانی کی شکل میں ساجھا کیا۔ٹیپ مائے ٹیل کیلئے تیار کئے گئے اس پروگرام میں آفرین نے جس انداز میں اپنی بات کہی اس سے سبھی جڑاؤ محسوس کریں گے جو کبھی نہ کبھی اس طرح کا شکار ہوئے ہیں۔آفرینمانتی ہیں کہ کویتاؤں اور کہانیوں نے انہیں اس بات کو کہنے کی طاقت دی جو وقت یا کہیں کہ کالج کے دنوں تک ان کے سینے میں ایک بوجھ سی بنی ہوئیں تھیں۔

ایسے کئی  لوگ ہیں جنہیں آفرین نے مانو اپنی بات کہنے کیلئے آواز دی ہے۔آفرین کی مانیں تو ایسے بہت سارے لوگ ہیں جس میں مرد ،خواتین اور بچیے شامل ہیں۔جو کہتے ہیں کہ آپ بہت ہمت والی ہیں۔ہمارے ساتھ بھی یہ سب ہوا لیکن ہم کبھی کہہ نہیں پائے۔لیکن اب شائد ہمت کر پائیں گے۔

Loading...

غالب ،فیض اور منٹو کو پسند کرنے والی آفرین اپنے بیگ میں ہمیشہ اپنے ان دوستوں کو ساتھ لیکر چلتی ہیں۔انہیں لگتا ہیکہ سماجی مسائل پر کویتائیں ،کہانیاں کہنے سے بات ضرور بنتی ہے۔ایسے شاعر ہیں جو لیس بینس کے حق کی بات کرتے ہیں تو ایسے بھی ہیں جو ملک ۔سنیا کے مختلف حساس مسائلوں کویتائیں کہہ رہے ہیں۔لوگوں پر اس کااثر پڑتا ہے۔وہ ایک جڑاؤ سا محسوس کرتے ہیں۔بقول آفرین جب چائے اور سموسے پر نظم بن سکتی ہے تو پھر کسی بھی مسئلے پر لکھا جا سکتا ہے۔اگر آپ نے آفرین کو اب تک نہیں سناتو اب سنئے۔۔۔۔

https://youtu.be/4q0BAxK8ZsQ

 

یوٹیوب پر ویڈیو وائرل ہو گیا اور کل تک کالج میں پڑھاکو اور پاگل سمجھی جانے والی آفرین سب کی چہیتی ہو گئیں۔نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے آفرین نے بتایا کہ کیسے اب کویتائیں اور اردو لوگوں میں کول سی بنتی جا رہی ہیں۔کسی کو بھلے ہی نہ پتہ ہو کہ شکریہ کہتے ہیں یا سکریہ لیکن وہ کوشش ضرور کرتے ہیں۔جو کہ اچھی بات ہے۔"آفرین کو لگتا ہیکہ کویتا ہو یا کچھ اور ہر کام بغیر ڈر ے کیا جائے کوئی نہیں ہے جو آ پ کو روک سکے۔پاپا پیسے دینے چھوڑ دین گے۔1000روپئے کی جگی 100روپئے کی چپل پہننی پڑیں گی کوئی بات نہیں ،لیکن من کو ایک سکون ملے گا جسے خریدا نہین جا سکتا"۔

 

 

Loading...