உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قطب مینار میں پوجا کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہندو فریق کی عرضی پر ASI کا کورٹ میں جواب

    ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے قطب مینار احاطے میں ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کے اختیارات مانگے جانے والی عرضی کی مخالفت کی اور یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کرنے کا مطالبہ کیا کہ قطب مینار احاطے میں پوجا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے قطب مینار احاطے میں ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کے اختیارات مانگے جانے والی عرضی کی مخالفت کی اور یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کرنے کا مطالبہ کیا کہ قطب مینار احاطے میں پوجا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے قطب مینار احاطے میں ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کے اختیارات مانگے جانے والی عرضی کی مخالفت کی اور یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کرنے کا مطالبہ کیا کہ قطب مینار احاطے میں پوجا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی واقع قطب مینار احاطے میں ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کا حق مانگے جانے والی عرضی پر ساکیت کورٹ میں ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے جواب داخل کیا ہے۔ اے ایس آئی نے قطب مینار احاطے میں ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کے اختیارات مانگی جانے والی عرضی کی مخالفت کی اور یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کرنے کا مطالبہ کیا کہ قطب مینار احاطے میں پوجا کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

      عدالت میں داخل اپنے جواب میں ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے کہا کہ یہ نیشنل مونیو منٹ ایکٹ کے تحت محفوظ یادگار ہے۔ 1914 میں جب قطب مینار کا ایکوائر کیا گیا، تب یہاں کسی طرح کی پوجا ارچنا نہیں ہو رہی تھی۔ اس لئے ضوابط کے مطابق، اب اس صورتحال کو نہیں بدلا جاسکتا۔ اے ایس آئی نے کہا کہ یہاں پوجا ارچنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس کی پہچان بدلی جاسکتی ہے۔ اس لئے عرضی خارج کی جائے۔

      دراصل، دہلی واقع ساکیت کورٹ میں قطب مینار احاطے کے اندر ہندو دیوتاوں کی بحالی اور پوجا ارچنا کے اختیارات کے مطالبہ کو لے کر عرضی داخل کی گئی ہے اور اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احاطے میں ہندو دیوی دیوتاوں کی کئی مورتیاں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دہلی کی ایک عدالت نے ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو اگلے حکم تک یہاں قطب مینار احاطے سے بھگوان گنیش کی دو مورتیوں کو نہیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

      دوسری جانب، پی ٹی آئی نے افسران کے حوالے سے بتایا کہ وزارت ثقافت دہلی کے قطب مینار احاطے میں ملی ہندو اور جین مورتیوں کو دکھانے پر غور کر رہا ہے اور مقام کی کھدائی یا کسی بھی مذہبی عمل کو روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے، نیشنل مونومنٹس اتھارٹی (این ایم اے) کے صدر ترون وجے نے ہندوستانی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ قوۃ الاسلام مسجد میں ملی گنیش کی دو مورتیوں کو احاطے سے باہر لے جایا جائے۔

      نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، افسران نے کہا کہ وزارت اس پر غور کر رہا ہے کہ کیا ان میں سے کچھ مورتیوں کو لیبل لگاکر دکھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ مسجد کی تعمیر مندروں کے پتھروں سے کی گئی، اس لئے مختلف شکل میں ایسی مورتیاں چاروں طرف دیکھی جاسکتی ہیں۔ افسران نے کہا کہ فی الحال ان مورتیوں کو بحال کرنے یا انہیں کہیں اور لے جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حالانکہ، انہیں پیش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: