ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

شاد نگر انکاونٹر کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی ، ملزمین کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کا حکم

حیدرآباد کی خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں چار ملزمین کو انکاونٹر میں مار گرانے کے واقعہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔

  • Share this:
شاد نگر انکاونٹر کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی ، ملزمین کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کا حکم
انکاونٹر کی جگہ پر کھڑے پولیس اہلکار ۔ فوٹو : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

حیدرآباد کی خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں چار ملزمین کو انکاونٹر میں مار گرانے کے واقعہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے ، جس کے بعد ہائی کورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمین کی لاشیں 9 دسمبر تک محفوظ رکھی جائیں ۔ یہ اپیل آزاد کارکنان کے ایک گروپ نے داخل کی ہے ۔ اس سے پہلے ملک بھر میں اس انکاونٹر پر مختلف رد عمل ظاہر کئے گئے ۔ جہاں زیادہ تر لوگ اس انکاونٹر کی حمایت میں نظر آئے ، تو وہیں کئی لیڈروں اور دیگر لوگوں نے اس کو غلط بتایا اور کہا کہ عدالت کے انصاف کی جگہ بندوق کا انصاف نہیں لے سکتا ۔


کانگریس نے ہفتہ کو کہا کہ خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے ملزمین کے پولیس انکاونٹر میں مارے جانے کے واقعہ کو لے کر مجسٹریٹ کی جانچ پوری ہونے کے بعد کوئی رخ طے کیا جاسکتا ہے ۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایمی یاگنک نے پارلیمنٹ احاطہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ مجسٹریٹ کی جانچ ہورہی ہے ، میں ابھی سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ کیا نتیجہ آئے گا ، ہمیں اس جانچ کے پورا ہونے کا انتظار کرنا چاہئے ۔


بتادیں کہ اس حیدرآباد میں ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں گرفتار کئے گئے چاروں ملزمین جمعہ کو صبح پولیس کے ساتھ ایک انکاونٹر میں مارے گئے ۔ سائبر آباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ چاروں ملزمین پولیس انکاونٹر میں مارے گئے ۔ انکاونٹر کے دوران دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے ۔


قومی انسانی کمیشن نے جانچ کی ہدایت دی

وہیں دوسری طرف خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کی عصمت دری ،  قتل اور لاش کو جلا دینے کے سنسنی خیز واقعہ کے ملزمین کے انکاؤنٹر واقعہ پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے جانچ کی ہدایت دی ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے انکاؤنٹر کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے ایک ٹیم کو انکاؤنٹر کے مقام پر بھیجنے کی ڈی جی کو ہدایت دی ہے۔ اس ٹیم کا کام مقام انکاؤنٹر کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے اسے کمیشن کے سامنے پیش کرنا ہوگا ۔

مرکزی وزارت داخلہ نے طلب کی تلنگانہ حکومت سے تفصیلات

ادھر مرکزی وزارت داخلہ نے اس انکاؤنٹر کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے تفصیلات مانگی ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ یہ تفصیلات قومی انسانی حقوق کمیشن کو بھیجے گی۔
First published: Dec 06, 2019 11:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading