உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سابق مرکزی وزیریشونت سنہا نے کانگریس کوگھمنڈ اوراکھڑ پن چھوڑکر عظیم اتحاد بنانے کا مشورہ دیا

    سابق مرکزی وزیراورسینئرلیڈر یشونت سنہا: فائل فوٹو

    سابق مرکزی وزیرنے کہا کہ بی جے پی کوشکست دینے کے لئے ایک ’متحدہ محاذ‘ بنائے اورہم خیال نظریات والی پارٹیوں کو جمع کرنا چاہئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:  سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کو خبردارکیا ہے کہ وہ اپنے مغروراوراکھڑ پن رویہ کوچھوڑ کرآئندہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لئے ایک’متحدہ محاذ‘ بنائے اورہم خیال نظریات والی پارٹیوں سے بات چیت شروع کرے۔

      یشونت سنہا نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ’’سیاست میں گھمنڈ اوراکھڑ پن خطرناک هوتا ہے اور پارٹی کو اس سے بچنا چاہئے، ہر پارٹی سے بات چیت شروع کر دینی چاہئے اورآئندہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنائے‘‘۔

      سابق مرکزی وزیرکا یہ بیان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی کے اس بیان کے بعد آیا ہے، جن میں انہوں نے مدھیہ پردیش اورراجستھان اسمبلی انتخابات تنہا ہی لڑنے کی بات کہی تھی۔  سماجوادی پارٹی نے بھی مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکارکردیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:          ایم پی۔ میزورم میں 28 نومبر، راجستھان۔ تلنگانہ میں 7  دسمبر اور چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں ووٹنگ

      یہ تازہ واقعہ کانگریس کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے كيونکہ وہ 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوشش میں تھی، لیكن ان دونوں پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات انفرادی طورپرلڑنے کی بات کہہ کرشاید اس محاذ کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہرکردی ہے۔

      قابل غور ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہفتہ کو پانچ ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اورمیزورم میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات دومراحل میں 12اور 20 نومبرکو، مدھیہ پردیش اور میزورم میں ایک مرحلہ میں 28نومبرکو اورراجستھان اورتلنگانہ میں ایک مرحلہ میں 7دسمبرکو ہوں گے۔ سبھی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ایک ساتھ 11دسمبرکو ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:     بی جے پی کوزبردست جھٹکا، یشونت سنہا کا پارٹی سے تمام تعلقات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان

      چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت نے گزشتہ روزپریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی پانچوں ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سبھی انتخابات میں نئی وی وی پیٹ مشینیں استعمال کی جائیں گی۔ راوت نے بتایا کہ چھتیس گڑھ کے نکسلی انتہا پسندی سے متاثرعلاقوں کی 18سیٹوں کے لئے پولنگ 12نومبر کو اور باقی 72سیٹوں کے لئے 20نومبر کوہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:   یشونت سنہا کے ٹوئٹ پر خاموش نہیں توڑ رہے جینت، باپ نے بیٹے کی حرکت پرجتایا افسوس

      یہ بھی پڑھیں:   مودی حکومت کے وزراء بھی ججوں کی طرح اپنی بات رکھیں: یشونت سنہا

       

       

       

       
      First published: