پاکستانی دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے شمالی کشمیر میں ہندوستانی فوج چلا رہی ہے سال کا سب سے بڑا آپریشن

نیوز 18 کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو شک ہے کہ کم سے کم دو درجن ٹریننگ یافتہ اور بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد ان جنگلات میں داخل ہوگئے ہیں ۔

Oct 15, 2019 11:46 PM IST | Updated on: Oct 15, 2019 11:46 PM IST
پاکستانی دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے شمالی کشمیر میں ہندوستانی فوج چلا رہی ہے سال کا سب سے بڑا آپریشن

علامتی تصویر

ہندوستانی فوج کی شمالی کمانڈ نے 28 ستمبر کی دوپہر ایک ٹویٹ کیا تھا ، جس میں لکھا تھا آپریشن ترنکھال ( گاندربل ) ۔ ایک دہشت گرد مارا گیا ۔ ہتھیار اور جنگی سامان برآمد کیا گیا ، مشترکہ مہم ابھی بھی جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی فوج کے جوانوں نے گاندربل کے ترمکھال کے جنگلات میں ایک دن پہلے ہی کچھ دہشت گردوں کو دیکھا تھا ۔ ذرائع کے مطابق جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فوجی جوانوں پر گولیاں چلانی شروع کردیں ۔ ہندوستانی فوج نے جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو مار گرایا ۔

انتظامیہ کی جانب سے 29 ستمبر کو سب ڈسٹرکٹ ٹراما اسپتال کنگن سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مارے گئے دہشت گردوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کیلئے بلائی گئی تھی ۔ اس ٹیم کو آٹوپسی کرنے کیلئے کئی گھنٹوں کی ٹریکنگ کرکے جانا پڑا ۔ تین دن بعد فوج کی دہشت گردوں سے دوبارہ مڈبھیڑ ہوئی ۔ ناردن آرمی کمانڈ نے یکم اکتوبر کو دوبارہ ٹویٹ کیا ، جس میں لکھا تھا : آپریشن ترنکھال ( گاندربل ) دوسرا دہشت گرد کو مار گرایا گیا ، ہتھیار اور جنگی سامان برآمد کیا گیا ، کل دو دہشت گرد ۔

Loading...

ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا ہے کہ مارے گئے دونوں دہشت گردوں کے پاس سے تین خودکار رائفلیں برآمد کی گئی ہیں ۔ ہندوستانی فوج نے دعوی کیا ہے کہ مارے گئے دونوں ہی دہشت گرد پاکستان کے تھے ۔ اس وقت سے دو ہفتہ گزرچکے ہیں ۔ 18 دنوں تک آپریشن چل چکا ہے ۔ ہندوستانی فوج کا آپریشن شمالی کشمیر کے گاندر بل کے جنگلات میں اس وقت سے مزید زور پکڑ گیا ہے ، جس کی وجہ سے کشمیر میں جاری یہ آپریشن گزشتہ ایک سال کا سب سے بڑا اور طویل آپریشن بن چکا ہے ۔

دراصل 27 ستمبر سے ہندوستانی فوج نے کشمیر کے جنگلات میں گھس کر کسی آپریشن کو انجام نہیں دیا تھا ، لیکن فی الحال فوج نے اپنے ایلیٹ پیرا کمانڈوز کی کئی ٹکڑیوں کو یہاں کے جنگلات میں اتارا ہے ۔ نیوز 18 کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو شک ہے کہ کم سے کم دو درجن ٹریننگ یافتہ اور بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد ان جنگلات میں داخل ہوگئے ہیں ۔

Loading...