اجودھیا کیس کی سماعت : وکیل کا دعوی ، زمین کبھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں رہی

اجودھیا کیس کی سپریم کورٹ میں آج سولہویں روز کی سماعت میں ایک ہندو فریق نے کہا کہ متنازعہ مقام پر آخری مرتبہ 16 دسمبر 1949 کو نماز ادا کی گئی تھی ۔

Aug 30, 2019 08:08 PM IST | Updated on: Aug 30, 2019 08:08 PM IST
اجودھیا کیس کی سماعت : وکیل کا دعوی ، زمین کبھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں رہی

سپریم کورٹ آف انڈیا ۔ فائل فوٹو

اجودھیا کیس کی سپریم کورٹ میں آج سولہویں روز کی سماعت میں ایک ہندو فریق نے کہا کہ متنازعہ مقام پر آخری مرتبہ 16 دسمبر 1949 کو نماز ادا کی گئی تھی ۔ رام جنم بھومی پن رتتھان کمیٹی کے وکیل پی این مشرا نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی آئینی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ زمین کبھی بھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخری مرتبہ سولہ دسمبر 1949 کو وہاں نماز ادا کی گئی تھی۔ اس کے بعد ہی فسادات ہوگئے اور انتظامیہ نے وہاں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ زمین کبھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں رہی۔ وہ ہمارے قبضے میں تھی۔ مسلمان حکمراں ہونے کی وجہ سے زبردستی نماز ادا کرتے تھے۔ 1856 سے پہلے وہاں کوئی نماز نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1934 سے 1949 کے درمیان جس عمارت میں مسجد تھی وہاں کی کنجی مسلمانوں کے پاس رہتی تھی لیکن پولیس اپنی نگرانی میں نماز جمعہ کے لئے مسجد کھلواتی تھی۔ صفائی ہوتی تھی اور پھر نماز ادا کی جاتی تھی۔ لیکن پھر کشیدگی بڑھ جاتی تھی۔

Loading...

آئینی بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے ’جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ’جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔

Loading...