உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خاتون یوگا ٹیچر نے ساتھی کو پہلے کھلایا کھانا، پھر کاٹ دیا پرائیویٹ پارٹ، بولیں- 'I AM SORRY'

    خاتون یوگا ٹیچر نے ساتھی کو پہلے کھلایا کھانا، پھر کاٹ دیا پرائیویٹ پارٹ

    خاتون یوگا ٹیچر نے ساتھی کو پہلے کھلایا کھانا، پھر کاٹ دیا پرائیویٹ پارٹ

    Rajasthan Crime News: راجستھان کے جے پور میں ایک خاتون یوگا ٹیچر نے اپنے ساتھی یوگا ٹیچر کے پرائیویٹ پارٹ (Cut Private Part) کو بلیٹ سے کاٹ ڈالا۔ نوجوان کی شکایت پر پولیس نے معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔

    • Share this:
      جے پور: راجستھان (Rajasthan) کی راجدھانی جے پور (Jaipur) میں ایک عجیب طرح کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک یوگا ٹیچر پر اپنے ساتھی یوگا ٹیچر کے پرائیویٹ پارٹ کو کاٹنے کا الزام لگا ہے۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔ راجدھانی کے بھانک روٹا تھانے میں ایک نوجوان نے ایک خاتون کے خلاف پرائیویٹ پارٹ کاٹنے کا معاملہ درج کرایا ہے۔ شکایت میں متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ وہ بیکانیر کا رہنے والا ہے۔ گزشتہ تین سالوں سے جے پور میں رہ کر پڑھائی اور یوگا ٹیچر کا کام کرتا ہے۔ اس کی سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک خاتون سے اچھے تعلقات بن گئے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے گھر بھی آنے جانے لگے۔

      خاتون بھی پیشے سے یوگا ٹیچر ہے۔ شکایت میں متاثرہ یوگا ٹیچر نے بتایا کہ وہ 16 نومبر کو یوگا کلاس لے کر ویشالی نگر سے اپنے گھر کنک ورنداون جا رہا تھا۔ تب خاتون نے اس سے دودھ سبزی منگوائی۔ یوگا ٹیچر سامان لے کر گاندھی پتھ واقع خاتون کے فلیٹ پر پہنچا جہاں پر یوگا ٹیچر خاتون نے کھانا بنایا اور نوجوان نے بھی وہیں پر کھانا کھایا۔

      نوجوان نے خاتون پر لگایا سنگین الزام

      کھانا کھانے کے بعد جب نوجوان اپنے گھر جانے لگا، تب خاتون بھی اس کے ساتھ نوجوان کے گھر آگئی۔ اپنے گھر پہنچتے ہی نوجوان کو گھبراہٹ اور چکر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد بیڈ پر سوگیا۔ اس وقت خاتون بھی نوجوان کے گھر پر ہی تھی۔ رات تقریباً دو بجے نوجوان کی آنکھ کھلی تو اس کے پرائیویٹ پارٹ کے پاس درد ہو رہا تھا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے، بیڈ اور فرش پر خون ہی خون بکھرا ہوا تھا، جب نوجوان زخمی حالت میں اٹھا تو خاتون وہاں پر نہیں تھی۔

      نوجوان نے مدد کے لئے آواز لگائی، لیکن رات کا وقت ہونے کے سبب آس پڑوس سے کوئی مدد نہیں ملی۔ پھر نوجوان نے خاتون کو فون کیا تو اس نے روتے ہوئے کہا- I am sorry۔ تب نوجوان نے خاتون کو کہا کہ مجھے اسپتال لے کر چلو، تو تھوڑی دیر بعد وہ اپنی کار لے کر آئی اور نوجوان کو کار میں بٹھاکر ایک اسپتال لے کر گئی۔ جہاں سے اسے ڈاکٹروں نے ایس ایم ایس اسپتال ریفر کردیا۔ نوجوان کا ابھی ایس ایم ایس اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ نوجوان نے الزام لگایا کہ مجھے کھانے میں کوئی نشیلی اشیا کھلاکر کسی دھار دار ہتھیار سے میرا عضو تناسل (لنگ) کاٹ دیا گیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: