உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’تم مسلمان ہو‘: ہریانہ میں بھیڑ کے ذریعہ 22 سالہ نوجوان کا قتل، لوگوں نے نعرے لگائے ’ہم ہندو ہیں تو ملّا ہے‘

    ہریانہ کے پلول کے رسول پور گاوں کے باشندہ 22 سالہ راہل خان کلوا، آکاش اور دیگر نام کے اپنے دوستوں کے ساتھ 13 دسمبر کو گھر سے نکلا تھا اور راہل خان کبھی گھر نہیں لوٹا۔

    ہریانہ کے پلول کے رسول پور گاوں کے باشندہ 22 سالہ راہل خان کلوا، آکاش اور دیگر نام کے اپنے دوستوں کے ساتھ 13 دسمبر کو گھر سے نکلا تھا اور راہل خان کبھی گھر نہیں لوٹا۔

    ہریانہ کے پلول کے رسول پور گاوں کے باشندہ 22 سالہ راہل خان کلوا، آکاش اور دیگر نام کے اپنے دوستوں کے ساتھ 13 دسمبر کو گھر سے نکلا تھا اور راہل خان کبھی گھر نہیں لوٹا۔

    • Share this:
      پلول: 13 دسمبر کو ہریانہ کے پلول کے رسول پور گاوں کے باشندہ 22 سالہ راہل خان کلوا، آکاش اور دیگر نام کے اپنے دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا اور راہل خان کبھی گھر نہیں لوٹا۔ کلوا اور آکاش پیر کے روز راہل خان کے گھر رسول پور آئے اور انہوں نے راہل خان سے ایک دعوت کا مطالبہ کیا، جسے انہوں نے نامنظور کردیا۔ وہ پھر بھی راہل خان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ راہل خان کے بہنوئی اکرم کہتے ہیں، ’اسے کم ہی معلوم تھا کہ اس سے اس کی جان چلی جائے گی‘۔

      ہریانہ کے پلول کے رسول پور گاوں کے باشندہ 22 سالہ راہل خان کلوا، آکاش اور دیگر نام کے اپنے دوستوں کے ساتھ 13 دسمبر کو گھر سے نکلا تھا اور راہل خان کبھی گھر نہیں لوٹا۔ کلوا اور آکاش پیر کے روز راہل خان کے گھر رسول پور آئے اور انہوں نے راہل خان سے ایک دعوت کا مطالبہ کیا، جسے انہوں نے نامنظور کردیا۔ وہ پھر بھی راہل خان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ راہل خان کے بہنوئی اکرم کہتے ہیں، ’اسے کم ہی معلوم تھا کہ اس سے اس کی جان چلی جائے گی‘۔



      14 دسمبر کو راحل خان کے رشتہ دار کو کلوا سے فون آیا کہ راحل خان کا ایکسیڈینٹ (حادثہ) ہوگیا ہے۔ میں فون کال کے بعد کلوا کے گھر گیا تھا۔ میری حیرانی کے لئے، میرے ساتھ غلط برتاو کیا گیا۔ انہوں نے کہا: ’ملّا، تو اب آگیا، تجھے بھی مار دیں‘۔ اس سے میں ڈر گیااور میں بھاگ گیا‘۔

      راحل خان کی فیملی کے اراکین اس کو اسپتال لے گئے، جہاں انہوں نے بھرتی ہونے کے تقریباً 6 گھنٹے بعد آخری سانس لی۔ کلوا پر اعتماد کرتے ہوئے، راہل خان کی فیملی نے قریبی پولیس تھانے میں ایف آئی درج کرائی، جس میں کہا گیا کہ راہل خان ایک حادثہ میں مارا گیا تھا، لیکن 15 دسمبر کی صبح، انہیں ایک وائرل ویڈیو ملا، جس میں راہل خان کو خون سے شرابور اور بے رحمی سے پیٹا گیا تھا۔

      اکرم نے بتایا، ’ویڈیو میں حملہ آوروں کو ’ہم ہندو ہیں ہندو، تو ملّا ہے ملّا‘ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے‘۔ اکرم نے بتایا، ’اس کا جسم خراب حالت میں تھی، ایسا لگتا ہے کہ اسے کلہاڑی اور راڈ سے پیٹا گیا تھا‘۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: