உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معشوقہ کے اہل خانہ نے عاشق کو بلایا گھر، پھر سر کاٹ کر گنڈک ندی میں پھینکا، 5 دن بعد ملی لاش

    معشوقہ کے اہل خانہ نے عاشق کو بلایا گھر، پھر سر کاٹ کر گنڈک ندی میں پھینکا، 5 دن بعد ملی لاش

    معشوقہ کے اہل خانہ نے عاشق کو بلایا گھر، پھر سر کاٹ کر گنڈک ندی میں پھینکا، 5 دن بعد ملی لاش

    بہار کے گوپال گنج میں عاشقی (Love Affair) کے معاملہ میں ایک نوجوان کا بے دردی سے قتل (Brutal Murder) کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معشوقہ سے ملنے اس کے گاوں گئےعاشق کی لاش پانچ دنوں کے بعد گنڈک ندی (Gandak River) سے برآمد کی گئی ہے۔ لاش برآمد ہوگئی ہے، لیکن گردن سے اوپر کا حصہ غائب ہے۔

    • Share this:
      گوپال گنج: بہار کے گوپال گنج میں عاشقی (Love Affair) کے معاملہ میں ایک نوجوان کا بے دردی سے قتل (Brutal Murder) کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معشوقہ سے ملنے اس کے گاوں گئےعاشق کی لاش پانچ دنوں کے بعد گنڈک ندی (Gandak River) سے برآمد کی گئی ہے۔ لاش برآمد ہوگئی ہے، لیکن گردن سے اوپر کا حصہ غائب ہے۔ نوجوان کے اس سر کٹی لاش کو وشمبھر تھانہ کے کالا مٹہنیا گاوں کے پاس سے گنڈک ندی سے برآمد کیا گیا ہے۔ مہلوک کا نام پریم کمار ہے۔ وہ وشمبھر پور کے روپ چھاپ گاوں کا رہنے والا تھا۔

      بتایا جاتا ہے کہ پریم کمار کا وشمبھر پور کے ہی سپایا خاص تاڑ پر ٹولہ میں کسی لڑکی سے معاشقہ تھا۔ مہلوک کے بھائی بلیٹ کمار یادو کے مطابق، عاشق کو معشوقہ کے گھر والوں نے پہلے فون کرکے بلایا اور گھر بلاکر اس کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔ پٹائی کے بعد اس کے بھائی کے سر کو کاٹ کر آدھے حصے کو گنڈک ندی میں پھینک دیا گیا، جبکہ سر اب تک برآمد نہیں ہوسکا ہے۔ اتوار کو پولیس نے کافی تلاش کے بعد مہلوک کی لاش کو گنڈک ندی سے برآمد کیا ہے۔

      صدر ایس ڈی پی او نریش پاسوان نے بتایا کہ مہلوک کے اہل خانہ کے بیان پر کئی لوگوں کے خلاف وشمبھر پور تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ اس معاملے میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مہلوک کی سر کٹی ہوئی لاش برآمد کی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی چھان بین میں مصروف ہوگئی ہے۔ معاملہ عاشقی کا بتایا جا رہا ہے۔ بہر حال پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے صدر اسپتال میں بھیج دیا ہے اور قتل معاملے کی جانچ ایف ایس ایل کی ٹیم کے ذریعہ کرائی جا رہی ہے۔ قتل کی اس سنگین واردات کے بعد وہاں مہلوک کے اہل خانہ میں ماتم کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے اور لوگ صدمے میں ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: