وقف املاک کا تحفظ : ملاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کرو

حیدرآباد کے مسلم نوجوانوں نے ایک سنجیدہ کوشش کا آغازکیاہے۔ حیدرآباد کے نوجوان عثمان محمد خان نے اپنے ہم خیال مسلم نوجوا نوں کیلئے حیدرآباد میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وقف کی جائیدادوں کی حفاظت میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ قانونی داؤ بیچ ہیں ۔ جس سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کےلیے اسی طرح کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاگیا

Jun 24, 2019 05:14 PM IST | Updated on: Jun 24, 2019 07:45 PM IST
وقف املاک کا تحفظ :  ملاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کرو

وقف املاک پر قبضوں کے واقعات سے فکرمند مسلم نوجوان یہ چاہتے ہیں وقف کے تحفظ میں اپنا رول ادا کریں۔ ملک بھرمیں اگروقف املاک کا صحیح طورپر استعمال کیاجائے تومسلمانوں کی پسماندگی دور ہوجائیگی۔ اور ان میں تعلیمی ، سماجی اور معاشی انقلاب آئے گا

تاہم وقف املاک پرناجائزقبضوں کی وجہ سے وقف بورڈ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ وہیں تلنگانہ ۔ آندھراپردیش ۔ کرناٹک اورمہاراشٹر میں وقف املاک کے تحفظ کے لیے وقفہ وقفہ سے تحریکیں چلائی جاتی ہیں۔ قوم کا احساس ہیکہ تاہم یہ تحریکیں کبھی بھی انقلابی تبدیلی لانے میں خاطر خؤاہ کامیابی حاصل نہیں کی ۔

Loading...

وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حیدرآباد کے مسلم نوجوانوں نے ایک سنجیدہ کوشش کا آغازکیاہے۔ حیدرآباد کے نوجوان عثمان محمد خان نے اپنے ہم خیال مسلم نوجوا نوں کیلئے حیدرآباد میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وقف کی جائیدادوں کی حفاظت میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ قانونی داؤ بیچ ہیں ۔ جس سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کےلیے اسی طرح کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

اس موقع پر وقف کی املاک کی حفاظت کیلئے کام کرنے والے نوجوان کارکنان کو خاص طور پر یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ وقف سے متعلق قانون کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ کہاجاتاہے کہ نوجوان ملک کی حالت کوبدلنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نوجوانوں میں عزائم ہوتوحکمرانوں کو جوابدہ بنایاجاسکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال پُرامید تھے کہ نوجوان نسل محنت اور عملِ مسلسل سے حالات کو تبدیل کرسکتی ہے۔ اقبال نے اپنے شہرہ آفاق کلام میں بارہا نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ مثلاً ’’خطاب بہ نوجوانانِ اسلام‘‘ ’’جاوید کے نام‘‘ ’’جاوید سے خطاب‘‘ ’’علی گڑھ کے طلبہ کے نام‘‘ ’’عبدالقادر کے نام‘‘ ’’ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘‘ اپنے اشعار میں نوجوانوں کے لیے والہانہ انداز میں دلی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

جوانوں کو سُوزجگربخش دے

مرا عشق میری نظر بخش دے۔(علامہ اقبال)۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔(علامہ اقبال)۔

وہیں اس میٹنگ میں شریک دانشوروں کا کہناہے کہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے آگے آنے والے نوجوانوں کے لیے راہیں آسان نہیں ہے۔انہیں نہ صرف غیروں کی بلکہ اپنے قوم اور رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ تاہم انہیں علامہ اقبال کی شاہین کی طرح پرواز کرنی چاہیے ۔ ایسے نوجوانوں کے لیے معروف شاعر راحت اندروی نے کچھ اس انداز میں عزائم کو پورا کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

سیلابوں سے آنکھ ملاو , طوفانوں پہ وارکرو

ملاحوں کاچکرچھوڑو تیرکے دریا پارکرو۔(راحت اندوری)۔

اس اجلاس میں صیانت وقف کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور کارکنوں نے اپنے تجربات سے واقف کروایا۔ وقف جائیدادوں کیلئے فکرمند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے منعقدہ اجلاس میں شرکاء کے جوش و جذبہ کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس طرح کے اجلاس وقتاً فوقتاً منعقد کئے جائے رہیں۔ان دانشوروں کا یہ بھی پیغام تھا کہ جس قوم کے اسلاف اور حکمرانوں کے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں لیکن قوم کی پسماندگی کو سچر کمیٹی نے آشکار کردیا ہے ان دانشوران نے نوجوانوں کو راحت اندوری کے اس شعر کیساتھ پیغام دیا کہ

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پر طنز نہ کر

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں۔(راحت اندوری)۔

Loading...