ہوم » نیوز » وطن نامہ

آندھراپردیش :جگن موہن ریڈی نے وزیراعلیٰ کے عہدہ کا لیا حلف ۔۔ چندرابابونائیڈو نے تقریب میں نہیں کی شرکت

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ،ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن سمیت کئی معزز مہمان حلف برداری تقریب میں موجود رہے۔

  • Share this:
آندھراپردیش :جگن موہن ریڈی نے وزیراعلیٰ کے عہدہ کا لیا حلف ۔۔ چندرابابونائیڈو نے تقریب میں نہیں کی شرکت
جگن موہن ریڈی، وزیراعلیٰ کے عہدہ کاحلف لیتے ہوئے۔(تصویر:محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، آندھراپردیش)۔

وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے آج آندھرپردیش کے وزیراعلی کے عہدے کا حلف لیا۔ گورنرای ایس نرسمہن نے اندرا گاندھی میونسیپل کارپوریشن اسٹیڈیم میں منعقد ایک تقریب میں جگن موہن ریڈی کودوپہر 12بج کر 24منٹ پرعہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔جگن،سابق وزیراعلیٰ این چندربابو نائیڈو کے بعد آندھر پردیش کے وزیراعلی بننے والے دوسرے لیڈر ہیں۔ حلف برداری تقریب میں اسٹیڈم پارٹی ورکروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ حلف برداری تقریب میں سابق وزیر اعلیٰ چندر بابو نائڈو شریک نہیں ہوئے۔


تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ،ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن سمیت کئی معزز مہمان حلف برداری تقریب میں موجود رہے۔ واضح رہے کہ وائی ایس آئی کانگریس پارٹی نے حال ہی میں ہوئے انتخابات میں ریاست کی 175اسمبلی سیٹوں میں سے 151 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے اور ریاست کی 25لوک سبھا سیٹوں میں سے 22سیٹوں پر قبضہ کیا ہے۔


کانگریس صدر راہل گاندھی نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے پر وائی اسی آر کانگریس پارٹی کے لیڈر جگن موہن ریڈی کو مبارکباد دی ہے۔راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا-’’آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے پر جگن ریڈی کو مبارکباد دی۔ میں انہیں،وزرا کی نئی ٹیم اور ریاست کے لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں‘‘۔




وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ، اے پی کے نومنتخبہ وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی کومبارکباد دیتے ہوئے۔(تصویر:ٹوئٹر)۔

وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ، اے پی کے نومنتخبہ وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی کومبارکباد دیتے ہوئے۔(تصویر:ٹوئٹر)۔



جگن موہن ریڈی کے سیاسی سفرپرایک نظر

آندھراپردیش کے نومنتخب وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اپنے آبائی ضلع کڑپہ میں مشہور امین پیر درگاہ آستانہ مخدوم الہی پرحاضری دی اور چادر گل پیش کی۔اس موقع پران کے لئے دعا کی گئی۔ اس سے ان کی کڑپہ آمد کے موقع پر کلکٹر سی ایچ ہری کرن اور دیگر عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔بعد میں جگن اپنے آبائی گاؤں پُلی ویندلہ کیلئے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے چرچ میں دعائیہ اجتماع میں شرکت کی۔ جگن کی پارٹی وائی ایس آرکانگریس کو حالیہ منعقدہ انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی، اپنی پارٹی کی کامیابی کے بعد پہلی مرتبہ اپنے آبائی گاؤں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے آج صبح انہوں نے تروپتی میں پوجا بھی کی۔ جگن کی آمد کے موقع پرضلع کڑپہ میں پولیس کا وسیع بندوبست دیکھاگیا۔

جگن موہن ریڈی امین پور درگاہ پرحاضری دینے سے پہلے۔(تصویر:ٹوئٹر)۔
جگن موہن ریڈی امین پور درگاہ پرحاضری دینے سے پہلے۔(تصویر:ٹوئٹر)۔


وائی ایس جگن موہن ریڈی کے عزم اور خود اعتمادی نے ان کو ان کے والد راج شیکھرریڈی کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہوئی موت کے بعد تقریباً دس سال کی جدوجہد نے آندھراپردیش کاوزیراعلیٰ بنایا۔جگن کی پیدائش 21دسمبر1972کوہوئی تھی۔ان کی ابتدائی تعلیم حیدرآباد پبلک اسکول میں ہوئی۔انہوں نے پرگتی مہاودیالیہ میں بی کام مکمل کیا۔ان کی اہلیہ بھارتی ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کی دو دختران لندن میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

جگن موہن ریڈی 2004میں سیاست میں آئے اور متحدہ اے پی میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ وہ 2009کے پارلیمانی انتخابات میں کڑپہ لوک سبھا سے منتخب ہوئے تاہم ان کے والد راج شیکھرریڈی کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں 2ستمبر2009کو ہوئی ہلاکت نے ان کے سیاسی مستقبل کو بے ترتیب کردیا۔ سینکڑوں افراد راج شیکھر ریڈی کی اس المناک موت کے بعد صدمہ سے دوچار ہوئے اور ان کی موت ہوگئی۔ 9اپریل 2010کو جگن نے ان کے والد کی موت کے صدمہ سے مرنے والے افراد کے غمزدہ ارکان خاندان کو پُرسہ دینے کیلئے پرسہ یاترا شروع کی تاہم کانگریس ہائی کمان نے اس یاترا کو رکوادیا۔ جگن نے اس وقت اپنی والدہ وجئے لکشمی کے ساتھ سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ تاہم ان کو یاترا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔29 نومبر2010کو جگن موہن ریڈی نے کانگریس اور ایم پی کے عہدہ سے استعفی دے دیا۔

جگن موہن ریڈی۔(تصویر:فائل)۔
جگن موہن ریڈی۔(تصویر:فائل)۔


جگن موہن ریڈی نے اپنی یاترا جاری رکھی جس نے ان کو ریاست کا مقبول لیڈر بنادیا۔ وہ مئی 2011میں کڑپہ لوک سبھا حلقہ سے ضمنی انتخابات میں 5.4لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہوئے۔11مارچ 2011کو انہوں نے مشرقی گوداوری ضلع میں وائی ایس آرکانگریس کے قیام کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن انہوں نے اپنے والد راج شیکھرریڈی کی ضلع کڑپہ کے ایڈوپلاپایہ میں واقع یادگار کے قریب پارٹی کے پرچم کو لہرایا تاہم ان کے سیاسی کیرئیر کو اس کو دھکہ لگا جب ان کو 25مئی 2012کو سی بی آئی نے کرپشن کے معاملات میں گرفتار کرلیا۔انہیں 16ماہ تک چنچل گوڑہ جیل میں رکھا گیا۔

2014کے انتخابات میں ان کی پارٹی کو 175رکنی اسمبلی میں صرف 66نشستیں ہی حاصل ہوسکیں تاہم جگن موہن ریڈی نے اپوزیشن لیڈر کے طورپر اپنی صلاحیت کو ثابت کیا اور چندرابابونائیڈو حکومت کی ناکامی اور رشوت خوری کے معاملات کو اسمبلی میں اٹھایا۔انہوں نے ان کے خلاف لگائے گئے رشوت خوری کے الزامات کو غلط ثابت کیا تاہم وائی ایس آر کانگریس کے 23ارکان اسمبلی اور تین ارکان پارلیمنٹ نے انحراف کرتے ہوئے تلگودیشم میں شمولیت اختیارکرلی۔ان کے سیاسی کیرئیر کا ایک اہم سنگ میل ان کی 3648کیلومیٹر کی پیدل یاتر ا تھی جو ریاست کے 13 اضلاع میں 341دن تک جاری رہی۔ انہوں نے 6نومبر2017میں اس یاترا کا آغازاپنے والد کی یادگارسے کیا اوراختتام اچھاپورم میں کیا۔ان کی یاترا کے دوران ہجوم نے ان کا شاندار استقبال کیااور بہترعوامی ردعمل نے ان کی انتخابات میں کامیابی کویقینی بنایا۔

 اچھاپورم میں جگن کی کامیابی کاجشن۔(تصویر:ٹوئٹر)۔
اچھاپورم میں جگن کی کامیابی کاجشن۔(تصویر:ٹوئٹر)۔


چندرابابونائیڈو: فائل فوٹو

چندرابابونائیڈو: فائل فوٹو
First published: May 30, 2019 09:42 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading