உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زکوٰۃ کی تقسیم اگرہومنظم اورمنصوبہ بند تو دور ہوسکتی ہے مسلمانوں کی پسماندگی

    اکثر مسلمان ماہ رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ لیکن سماج کے ایک بڑے طبقے کی شکایت یہ رہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتی۔

    اکثر مسلمان ماہ رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ لیکن سماج کے ایک بڑے طبقے کی شکایت یہ رہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتی۔

    اکثر مسلمان ماہ رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ لیکن سماج کے ایک بڑے طبقے کی شکایت یہ رہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتی۔

    • Share this:
      زکوٰۃ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے ۔اکثر مسلمان ماہ رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ لیکن سماج کے ایک بڑے طبقے کی شکایت یہ رہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتی۔ زکوٰۃ کی رقم اصل مستحقین تک پہنچانے کے لئے علمائے دین کی طرف سے اس بارخاص کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے مصارف کے آٹھ مد بتائے گئے ہیں۔ قر آن نے ترجیحی اعتبار سے فقرا ء اور مساکین کو اول درجے پررکھا ہے ۔لیکن مسلمانوں کی بہت سی غیرسرکاری تنظیموں اوراداروں کی طرف سے دوسرے مدوں میں بھی زکوٰۃ کی تقسیم پر خاص زوردیاجاتاہے ،جس کی وجہ سے سماج کا غریب ترین طبقہ زکوٰۃ کے فوائد سے محروم رہ جاتا ہے ۔علمائے دین کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کے پہلے حقدارفقراءاورمساکین ہیں ۔

      زکوٰۃ کی رقم غریب اور ضرورت مند افراد تک پہنچانے کی ذمہ داری صاحب نصاب کی ہے ۔علمائے دین کا کہنا ہے کہ عید الفطر سے پہلے زکوٰ ۃ کی ادائیگی غریبوں اور مسکینوں کے درمیان کر دینی چاہئے تاکہ وہ اپنی عید کو بہتر طریقے سے منا سکیں۔ ماہ رمضان میں صاحب نصاب مسلمانوں کی جانب سے ہر سال ایک بڑی رقم زکوٰۃ کے مد میں تقسیم کی جا تی ہے ۔سماج کے باشعور طبقے کا خیال ہے کہ اگر زکوٰۃ کی رقم کو منظم اور منصوبہ بند طریقے سے تقسیم کی جائے تو بہت حد تک اس کے ذریعہ مسلم سماج میں پائی جانے والی مالی بدحالی کو دور کیا جا سکتا ہے ۔ نیوز 18 اردو کے لئے الہ آباد سے مشتاق عامر کی رپورٹ
      First published: