உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک اپنے بیٹے کے لئے تلاش رہے ہیں دلہن، فیس بک پوسٹ میں بتائی تمام شرطیں

    اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک اپنے بیٹے کے لئے تلاش رہے ہیں دلہن، فیس بک پوسٹ میں بتائی تمام شرطیں

    اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک اپنے بیٹے کے لئے تلاش رہے ہیں دلہن، فیس بک پوسٹ میں بتائی تمام شرطیں

    ڈاکٹر ذاکر نائک (Zakir Naik) نے فیس بک پر لکھا، ’میں اپنے بیٹے فریق کے لئے دلہن کی تلاش کر رہا ہوں۔ اس کے لئے ایک اچھے کردار والی مذہبی مسلم لڑکی کی تلاش ہے‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کوالالمپور: معروف اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک اب اپنے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھ رہے ہیں۔ اپنی بہو کی تلاش کے تحت ذاکر نائک (Zakir Naik) نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایک بڑا پوسٹ ڈالا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی بہو سے متعلق بتایا ہے کہ انہیں اپنے بیٹ؁ کے لئے کیسی دلہن چاہئے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک نے فیس بک پوسٹ میں لکھا، ’میں اپنے بیٹے فریق کے لئے دلہن تلاش رہا ہوں۔ اس کے لئے ایک اچھے کردار والی مذہبی مسلم لڑکی کی تلاش ہے۔ تاکہ میرا بیٹا اور اس کی اہلیہ ایک دوسرے کے لئے طاقت بن سکیں۔ اگر آپ ایسی لڑکی کے والد یا رشتہ دار ہیں تو جانکاری کے ساتھ اسی پوسٹ پر کمنٹ میں جواب دیں‘۔

      فیس بک میں لکھے لمبے پوسٹ ذاکر نائک نے اپنے بیٹے اور فیملی کی بھی اطلاع شیئر کی ہے۔ ساتھ ہی اہل لڑکیوں سے بایو ڈاٹا بھی مانگا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس پوسٹ میں لگائے گئے گرافکس میں اپنے بیٹے کی تصویر نہیں لگائی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی تصویر ہی شیئر کی ہے۔

       



      ڈاکٹر ذاکر نائک اس وقت ہندوستان میں وانٹیڈ ہیں اور ملیشیا میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ہونے والی بہو کو لے کر کچھ شرطیں بھی رکھی ہیں۔ اس کے مطابق، لڑکی کا کسی اسلامی تنظیم سے منسلک ہونا بے حد ضروری ہے۔ لڑکی کا قرآن وحدیث میں بتائی گئی راہ پر چلنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ لڑکی سبھی حرام سرگرمیوں سے دور رہے گی۔ لڑکی کا کردار اچھا ہو اور وہ مذہبی ہونی چاہئے۔ عالیشان زندگی سے دور رہ کر عام زندگی جینے پر یقین کریں۔ اسے انگریزی بولنی آنی چاہئے اور ملیشیا میں ہی رہنے کی خواہاں ہو۔ اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر ذاکر نائک نے کئی شرطیں لگائی ہیں۔ انہوں نے خواہشمند فیملی سے لڑکی کا بایو ڈاٹا بھیجنے کو بھی کہا ہے۔ اب ان کے اس فیس بک پوسٹ پر کئی لڑکیوں کو کمنٹ آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اپنے اپنے مطابق تبصرہ کر رہے ہیں۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: