ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تجارت میں کامیابی کیلئے ہمت، صلاحیت، محنت اور مشورہ ضروری، انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو کا پہلا بڑا سمٹ منعقد

ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو (IICCB) کا پہلا بڑا سمٹ منعقد ہوا۔ اس سمٹ کا عنوان تھا، وبائی دور کے بعد معاشی رجحانات اور باہمی ربط۔ اس اجلاس میں مسلم طبقہ کے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہر تعلیم نے شرکت کی۔

  • Share this:
تجارت میں کامیابی کیلئے ہمت، صلاحیت، محنت اور مشورہ ضروری، انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو کا پہلا بڑا سمٹ منعقد
ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو (IICCB) کا پہلا بڑا سمٹ منعقد ہوا۔ اس سمٹ کا عنوان تھا، وبائی دور کے بعد معاشی رجحانات اور باہمی ربط۔ اس اجلاس میں مسلم طبقہ کے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہر تعلیم نے شرکت کی۔

بنگلورو: ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو (IICCB) کا پہلا بڑا سمٹ منعقد ہوا۔ اس سمٹ کا عنوان تھا، وبائی دور کے بعد معاشی رجحانات اور باہمی ربط۔ اس اجلاس میں مسلم طبقہ کے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہر تعلیم نے شرکت کی۔ ملک اور ملت کی معاشی اور تعلیم ترقی کیلئے اجلاس میں کئی اہم خیالات، مشورے اور تجاویز پیش کئے گئے۔ معروف صنعتکار اور بلڈر ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ تجارت اور صنعت میں قدم جمانے کیلئے صرف سرمایہ ہی درکار نہیں ہے۔ ہمت، صلاحیت، محنت اور رائے مشوروں کے ساتھ ایک تاجر اپنے لئے سرمایہ اور وسائل پیدا کرسکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ دو چار دوست آپس میں مل کر کمپنی قائم کرسکتے ہیں، اشتراک کے ساتھ بزنس کرسکتے ہیں۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ کرناٹک کے شہر بیجاپور میں ایک تاجر روزانہ 20 ہزار روپئے کے پان بیڑی فروخت کرتا ہے، اس تاجرنے اپنی ایک چھوٹی سی کوشش کے ذریعہ تجارت کی بڑی مثال قائم کی ہے۔ لہٰذا صلاحیت پیدا کرتے ہوئے ہمت اور کوشش کی جائے تو چھوٹے سے چھوٹے پیشہ کو بلندی تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں انجنیئرز ان دنوں جاب کی تلاش میں گھوم پھر رہے ہیں۔ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے بعد بڑی بڑی کمپنیوں کیلئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ لہٰذا موجودہ حالات میں ہر ایک کو ملازمت دینا ممکن نہیں ہے، لیکن دو چار انجنیئر مل کر ہمت کریں تو خود اپنے لئے روزگار کا موقع پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور صنعت کے شعبہ میں قدم رکھنے یا اپنی موجودہ تجارت کو فروغ دینے کیلئے تاجر، صنعتکار، نوجوان اسلامک چیمبر آف کامرس جیسے اداروں سے رہنمائی حاصل کریں، حکومت اور بینکوں کی کئی ساری اسکیمیں موجود ہیں، ان اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں۔ ضیاء اللہ شریف کرناٹک کے ایک قدیم ادارے سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔


ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو (IICCB) کا پہلا بڑا سمٹ منعقد ہوا۔ اس سمٹ کا عنوان تھا، وبائی دور کے بعد معاشی رجحانات اور باہمی ربط۔ اس اجلاس میں مسلم طبقہ کے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہر تعلیم نے شرکت کی۔
ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو (IICCB) کا پہلا بڑا سمٹ منعقد ہوا۔ اس سمٹ کا عنوان تھا، وبائی دور کے بعد معاشی رجحانات اور باہمی ربط۔ اس اجلاس میں مسلم طبقہ کے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہر تعلیم نے شرکت کی۔


انہوں نے کہا کہ سی ایم اے کے تحت یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ میسور روڈ پر موجود سی ایم اے کی 22 ایکڑ اراضی تعلیمی انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادارے جیسے بیدر کا شاہین تعلیمی ادارہ، بنگلور کی پرسیڈنسی کالج اگر چاہیں تو سی ایم اے کے تعلیمی انفراسٹرکچر سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
ممتاز ماہر تعلیم اور شاہین تعلیمی ادارہ جات، بیدر کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ تعلیم پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا شاہین ادارے نے دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج کا نمونہ پیش کیا ہے۔ دینی مدارس سے فارغ حفاظ، علماء کو عصری تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے ڈاکٹر، انجنیئرز بنانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی راہ میں غریبی، معاشی مسائل ہر گز رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ کیونکہ طلبہ کی مدد کیلئے حکومت کی جانب سے کئی ساری سہولیات اور مراعات فراہم کی جارہی ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے بھی اسکالرشپ کے ذریعہ ہونہار طلبہ کی مدد کررہے ہیں۔
پرسیڈنسی تعلیمی ادارے کے نمائندے سلمان نے کہا کہ تعلیم، صحت  اور معاشی میدان میں مسلم طبقہ کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انڈین اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ بیورو کے رکن اور ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ڈاکٹر رفیع اللہ بیگ نے کہا کہ تجارت کے میدان میں ترقی کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ مذہب یا ذات کسی کیلئے ہرگز رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ رفیع اللہ بیگ نے کہا عظیم پریم جی اس کی ایک بہترین مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تجارت کے ذریعہ مسلمان اپنا اثر و رسوخ قائم کرسکتے ہیں۔ ملک کی جے ڈی پی میں اپنی شمولیت کو ثابت کرسکتے ہیں۔
اجلاس میں امریکہ سے آئے صنعتکار اکرم سید نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کے درمیان آپس میں نیٹ ورکنگ ضروری ہے۔ اس سے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے اور  بزنس کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے آئی آئی سی سی بی نے قدم اٹھایا ہے۔

معروف صنعتکار اور بلڈر ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ تجارت اور صنعت میں قدم جمانے کیلئے صرف سرمایہ ہی درکار نہیں ہے۔ ہمت، صلاحیت، محنت اور رائے مشوروں کے ساتھ ایک تاجر اپنے لئے سرمایہ اور وسائل پیدا کرسکتا ہے۔
معروف صنعتکار اور بلڈر ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ تجارت اور صنعت میں قدم جمانے کیلئے صرف سرمایہ ہی درکار نہیں ہے۔ ہمت، صلاحیت، محنت اور رائے مشوروں کے ساتھ ایک تاجر اپنے لئے سرمایہ اور وسائل پیدا کرسکتا ہے۔


آئی آئی سی بی کے سکریٹری عامر شریف نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمان سیاسی طور پر کافی پیچھے ہیں۔ ایک طرح سے سیاست میں اپنا مقام کھو چکے ہیں۔ لیکن معاشی میدان میں کمزور نہ پڑیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔ عامر شریف نے کہا کہ اسلامک چیمبر آف کامرس اسٹارٹ اپ کی رہنمائی، کمپنیوں کے رجسٹریشن، سرمایہ کاری کے مواقع اس طرح مختلف امور میں مدد اور رہنمائی کیلئے قائم کیا گیا ہے۔
آئی آئی سی سی بی کے ٹرسٹی سید نظام الدین نے کہا کہ ان کا یہ اجلاس توقع سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔ اس اجلاس میں دو کمپنیوں کے درمیان ایک ملین یو ایس ڈالر کا معاہدہ بھی  عمل میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک چیمبر آف کامرس کا مقصد ہی یہی ہے کہ صنعتکاروں اور تاجروں میں میل ملاپ قائم کیا جائے۔ سید نظام الدین نے کہا طلبہ کی رہنمائی کیلئے بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ طلبہ کیلئے مفت رجسٹریشن کی سہولت موجود ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 01, 2021 11:59 PM IST