ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد امن برقرار رکھنے کیلئے اجیت ڈوبھال کی رہائش گاہ پر مذہبی رہنماوں کی میٹنگ

سماج کے مختلف مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے آج قومی مفاد کو بالاتر قراردیتے ہوئے اجودھیا میں بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرنے کاعہد کیاہے ۔

Nov 10, 2019 08:50 PM IST | Updated on: Nov 10, 2019 08:50 PM IST
ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد امن برقرار رکھنے کیلئے اجیت ڈوبھال کی رہائش گاہ پر مذہبی رہنماوں کی میٹنگ

این ایس اے اجیت ڈوبھال مذہبی رہنماوں سے میٹنگ کرتے ہوئے ۔ تصویر : اے این آئی ٹویٹر ۔

سماج کے مختلف مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے آج قومی مفاد کو بالاتر قراردیتے ہوئے اجودھیا میں بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرنے کاعہد کیاہے ۔ اس معاملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے ایک دن بعد آج قومی سلامتی کےمشیر اجیت ڈوبھال کی رہائش گاہ پر ملک کے اہم مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کی ایک میٹنگ ہوئی ۔ میٹنگ کا مقصدمذہبی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت اور رابطہ کے ذریعہ سبھی فرقوں کے مابین بھائی چارہ کے جذبہ کو مستحکم بناناتھا۔

ذرائع کے مطابق میٹنگ میں سبھی نے قانون کی حکمرانی اور ملک کے آئین پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرنے کاعہد کیا اور ملک کے سبھی لوگوں سے بھی اس کا احترام کرنے کی اپیل کی ۔ سبھی نے اس بات پر زوردیا کہ قومی مفاد بالاتر ہے ۔ انھوں نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے اور قانون کی حکمرانی میں حکومت کے ساتھ پور اتعاون کرنے کی بات کہی ۔

Loading...

ذرائع نے کہا کہ سبھی فریقین اس بات پر متفق تھے کہ ملک کے اندر اور باہر کچھ ملک مخالف اور دشمن عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ مذہبی رہنماؤں نے حکومت کے ذریعہ امن وقانون برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی حمایت کرنے عزم کیا۔

انھوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ دونوں فرقوں کے لاکھوں لوگوں نے ذمہ داری ، حساسیت اور صبر و تحمل کا مظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ سبھی نے مختلف فرقوں کے مابین مستقبل میں بھی بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انھوں نے ملک میں امن وسلامتی کا ماحول قائم رکھنے کے لیے حکومت کو مبارک باد دی ۔ میٹنگ میں بابا رام دیو ،سوامی پرماتمانند ،شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد اور سوامی چدانند سرسوتی سمیت کئی مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی ۔

Loading...