ایودھیا متنازعہ اراضی فیصلہ: ایودھیا میں 2.77 ایکڑ نہیں، بس 0.3 ایکڑ زمین کو لیکر سپریم کورٹ نے دیا فیصلہ

ایودھیا معاملے میں سنیچر کو سپریم کورٹ نے اس متنازعہ زمین کو رام للا وراجمان کو دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔

Nov 10, 2019 06:20 PM IST | Updated on: Nov 10, 2019 06:20 PM IST
ایودھیا متنازعہ اراضی فیصلہ: ایودھیا میں 2.77 ایکڑ نہیں، بس 0.3 ایکڑ زمین کو لیکر سپریم کورٹ نے دیا فیصلہ

نئی دہلی: ایودھیا معاملے میں سنیچر کو سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا کو دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد ہندستان کے سب سے بڑے مذہبی اور قانونی تنازعے کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کی کاپی میں غور کرنے والی بات یہ رہی کہ یہ فیصلہ 2.77  ایکڑ زمین پر نہیں بلکہ 0.309  ایکڑ یا 1500 مربع گز زمین کی ملکیت کو لیکر دیا گیاہے۔

اس 0.309  ایکر زمین مین ہی باہری چبوترہ ، داخلی چبوترہ اور سیتا رسوئی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رام چبوترا بابری مسجد کے انہدام کے دوران ہی تباہ ہوگیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے اس فیصلے کے پہلے پیراگراف میں ہی  پانچ ججوں کے بنچ نے واضح کردیا  کہ یہ فیصلہ متنازعہ اراضی کے ایک بہت ہی چھوٹے ٹکڑے پر دیا جارہا ہے۔1045  صفحات کے اپنے فیصلے کی شروعات میں ہی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ تنازعہ ایودھیا شہر کے 1500 مربع گز کی زمین کے ٹکڑے کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے دو مذہبی کمیونٹی کے آس۔پاس مرکوز ہے۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ آخر2.77  ایکڑ کی بات کہاں سے آئی؟ 1991  کلیان سنگھ سرکار کے ذریعے ایودھیا میں تیرتھ یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس زمین کو تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ اس تحویل کے خلاف الہٰ آباد ہائی کورٹ کے سامنے ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ ایودھیا معاملے سے جڑے وکیلوں کا کہنا ہے کہ 2010 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا رپورٹ میں اس متنازع زمین کو 2.77  ایکڑ بتایا جانے لگا تھا۔ اس کے بعد سے خبروں میں متنازع زمین 2.77 ایکڑ ہی بن گئی۔

Loading...

سنیچر کو ہندستان کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے رام للا وراجمان کو اس متنازعہ 0.309  ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس معاملے میں ہندو فریقوں کی جانب سے شامل وکیلوں میں سے ایک وشنو جینے نے نیوز18 کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی سماعت کے دوران کبھی بھی واضح نہیں ہوسکا تھا کہ یہ متنازع زمین 2.77  نہ ہوکر 0.3  ایکر ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ یہ فیصلہ 0.3  ایکڑ زمین کو لیکر دیا گیا ہے۔ 

Loading...