اجودھیا معاملے پرسپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: کھدائی میں ملا ڈھانچہ غیر اسلامی تھا

چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں فریقوں کی دلیلیں کوئی نتیجہ نہیں دیتیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ عقیدے پر نہیں کیا جاسکتا۔ ہندو اس کو ہی رام کی پیدائش کی جگہ مانتے ہیں جبکہ مسلم اس جگہ نماز اداکرتے تھے۔ ہندو فریق جس جگہ سیتا رسوئی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مسلم فریق اس جگہ کو مسجد اور قبرستان بتاتا ہے۔ سی جے آئی نے کہا اندرونی حصے میں ہمیشہ پوجا ہوتی تھی۔ باہری چبوترہ رام چبوترہ اور سیتا رسوئی میں بھی پوجا ہوتی تھی۔

Nov 09, 2019 11:21 AM IST | Updated on: Nov 09, 2019 12:19 PM IST
اجودھیا معاملے پرسپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: کھدائی میں ملا ڈھانچہ غیر اسلامی تھا

اجودھیا معاملے پر سپریم کورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

اجودھیا معاملے میں سپریم کورٹ نے اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ سنانا شروع کردیا ہے۔ فیصلہ سنانے سے پہلے سی جے آئی رنجن گوگوئی نے کہا کہ تاریخ ضروری ہے لیکن قانون سب سے اوپر ہوتا ہے۔ سی جے آئی نے کہا میر باقی نے بابری مسجد بنوائی تھی لیکن 1949 میں آدھی رات میں رام کا مجسمہ رکھا گیا تھا۔ سی جے آئی نے کہا کہ ہم سب کیلئے آثار قدیمہ  مذہب اور تاریخ اہم ہیں لیکن قانون سب سے اوپر ہے۔ سبھی مذاہب کو ایک نظر سے دیکھنا ہمارا فرض ہے۔ سی جے آئی  نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کیلئے حکومت کا نظریہ بھی یہی ہونا چاہئے۔ مسجد کب بنائی گئی اس کا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

Loading...

Loading...