بابری مسجد انہدام کو لے کر دگ وجے سنگھ کا ٹویٹ ، پوچھا : کب ملے گی قصورواروں کو سزا ؟

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازع میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ایک دن بعد ٹویٹ کیا ہے ۔

Nov 10, 2019 05:35 PM IST | Updated on: Nov 10, 2019 05:35 PM IST
بابری مسجد انہدام کو لے کر دگ وجے سنگھ کا ٹویٹ ، پوچھا : کب ملے گی قصورواروں کو سزا ؟

دگ وجے سنگھ ۔ فائل فوٹو ۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازع میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ایک دن بعد ٹویٹ کیا ہے ۔ انہوں نے اتوار کو ٹویٹ کرکے کہا کہ عدالت عظمی نے ایودھیا تنازع سے متعلق فیصلہ میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کے عمل کو غیر قانونی تسلیم کیا ہے ۔ ایسے میں کیا قصورواروں کو سزا مل پائے گی ؟ انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں ، 29 سال ہوگئے ۔

دراصل لکھنو کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت میں جاری انہدام کیس میں اپریل 2020 تک فیصلہ آنے کی امید ہے ۔ خصوصی سی بی آئی عدالت نے پراسیکیوٹرس کے ذریعہ ثبوت اور گواہ پیش کرنے کی آخری تاریخ 24 دسمبر طے کی ہے ۔ 29 ستمبر 2019 کو الزمات طے ہونے کے بعد عدالت کے ذریعہ بار بار حکم دینے کے باوجود کلیان سنگھ کے خلاف گواہ نہیں پیش کرنے پر حال ہی میں عدالت نے پراسیکیوٹر کو پھٹکار لگائی تھی ۔

بی جے پی لیڈران لال کرشن اڈوانی ، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی کے خلاف سماعت 25 مئی 2017 کو لکھنو کی خصوصی عدالت میں شروع ہوئی تھی ۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے انہیں اس معاملہ میں بری کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو خارج کردیا تھا ۔ کلیان سنگھ کے خلاف راجستھان کے گورنر کے طور پر مدت کار ختم ہونے کے بعد ستمبر 2019 میں سماعت شروع ہوئی ۔ گورنر کے طور پر انہیں قانونی کارروائی سے چھوٹ ملی ہوئی تھی ۔ سال 1992 میں چھ دسمبر کو جب بابری مسجد منہدم کی گئی تھی ، اس وقت کلیان سنگھ اترپردیش کے وزیر اعلی تھے ۔

خیال رہے کہ ہفتہ کو ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنادیا ۔ چیف جسٹس نے متنازع زمین رام للا وراجمان کو دینے کی بات کہی ۔ ساتھ ہی ساتھ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی کہیں پانچ ایکڑ زمین دینے کیلئے کہا ۔ سی جے آئی رنجن گوگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے مسلسل 40 دنوں تک سماعت کے بعد 16 اکتوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا ۔

Loading...