جانیں کون ہیں وہ 5 جج جو ملک کے سب سے بڑے مقدمے کا سنائیں گے تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ سے منسلک معاملہ کی سماعت اسی سال 5 اگست سے شروع ہوئی تھی۔

Nov 09, 2019 09:54 AM IST | Updated on: Nov 09, 2019 10:02 AM IST
جانیں کون ہیں وہ 5 جج جو ملک کے سب سے بڑے مقدمے کا سنائیں گے تاریخی فیصلہ

ایودھیا معاملہ کی سماعت پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے کی

نئی دہلی۔ ملک کے دہائیوں پرانے ایودھیا میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی زمین تنازعہ معاملہ پر سپریم کورٹ ہفتہ کے روز یعنی آج فیصلہ سنائے گا۔ جمعہ کی دیر شام سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اس کی اطلاع دی گئی کہ فیصلہ ہفتہ کی صبح 10.30 بجے سے سنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ سے منسلک معاملہ کی سماعت اسی سال 5 اگست سے شروع ہوئی تھی۔ گزشتہ پانچ اگست کے بعد سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملہ کو لے کر باقاعدہ سماعت ہو رہی ہے۔ 40 دنوں تک جاری اس سماعت کے بعد آئینی بینچ نے 17 اکتوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

Loading...

اس معاملہ کی سماعت پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے کی۔ اس کی صدارت چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کی۔ اس بینچ میں گگوئی کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایس عبدالنظیر اور ڈی وائی چندرچوڑ شامل ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کون ہیں وہ پانچ جج جن کی بینچ نے اس معاملہ کی سماعت پوری کی ہے۔

علامتی تصویر علامتی تصویر

رنجن گگوئی۔  سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس رنجن گگوئی اس بینچ میں شامل ہیں۔ رنجن گگوئی سابق سی جے آئی دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفرنس کر کے سرخیوں میں چھائے چار ججوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ملک کے 46 ویں چیف جسٹس ہیں۔ 18 نومبر 1954 کو پیدا ہوئے جسٹس رنجن گگوئی نے ڈبروگڑھ کے ڈان واسکو اسکول سے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کی اور دلی یونیورسیٹی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے تاریخ کی پڑھائی کی۔ سال 1978 میں گوہاٹی ہائی کورٹ سے وکالت شروع کرنے والے جسٹس گگوئی سال 2001 میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے جج بنے تھے۔ اس کے بعد انہیں 12 فروری 2011 کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ سال 2012 میں انہیں سپریم  کورٹ کا جج بنایا گیا تھا اور اس کے بعد وہ انتخابی اصلاحات سے لے کر ریزرویشن اصلاحات تک کے کئی اہم فیصلوں میں شامل رہے۔

سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس رنجن گگوئی اس بینچ میں شامل ہیں: فائل فوٹو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس رنجن گگوئی اس بینچ میں شامل ہیں: فائل فوٹو

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ: جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کو 13 مئی 2016 کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ اس سے پہلے وہ 2013 تک الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے اور بامبے ہائی کورٹ کے جج بھی رہے۔ ساتھ ہی چندرچوڑ مہاراشٹر جوڈیشیل اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد وائی وی چندرچوڑ ملک کے سب سے طویل وقت تک رہنے والے سی جے آئی تھے۔ جسٹس چندرچوڑ نے ہندوستان کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

جسٹس شرد اروند بوبڈے: 24 اپریل 1956 کو ناگپور میں پیدا ہوئے بوبڈے سپریم کورٹ کے جج ہیں اور ساتھ ہی وہ مہاراشٹر نیشنل لا یونیورسیٹی، ممبئی اور مہاراشٹر نیشنل لا یونیورسیٹی ، ناگپور کے چانسلر بھی ہیں۔ ان کی مدت کار 23 اپریل 2021 میں ختم ہونے جا رہی ہے۔ بوبڈے کا سپریم کورٹ میں 8 سال کی مدت کار ہے۔ بوبڈے ہندوستان کے اگلے چیف جسٹس آف انڈیا بھی ہیں۔

جسٹس اشوک بھوشن: جسٹس اشوک بھوشن کی پیدائش یوپی کے جونپور میں 5 جولائی 1956  کو ہوئی۔ اشوک بھوشن نے الہ آباد یونیورسیٹی سے 1979 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں ہی بھوشن نے اپنی پریکٹس شروع کی۔ وہاں وہ سال 2001 تک پریکٹس کرتے رہے۔ 24 اپریل 2001 کو وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر کئے گئے۔ 10 جولائی 2014 کو کیرالہ ہائی کورٹ میں ان کا ٹرانسفر ہو گیا۔ یکم اگست 2014 کو وہ کیرالہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 13 مئی 2016 کو اشوک بھوشن کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا۔

جسٹس ایس عبدالنظیر: جسٹس نظیر کی پیدائش 5 جنوری 1958 کو کرناٹک کے کنارا میں ایک مسلم کنبے میں ہوئی۔ یہ کرناٹک کا ساحلی علاقہ ہے۔ جسٹس نظیر پانچ بھائی۔ بہن ہیں۔ انہوں نے مویدیدری کے مہاویر کالج میں اپنی بی کام کی ڈگری مکمل کی۔ انہوں نے ایس ڈی ایم لا کالج کوڈیال بیل، منگلورو سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے۔ نظیر نے 18 فروری 1983 میں بنگلورو میں کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک وکیل کے طور پر اپنا کیرئیر شروع کیا۔ جسٹس نظیر کو مئی 2003 میں کرناٹک ہائی کورٹ میں ہی ایڈیشنل جج کے طور پر ان کی تقرری کی گئی۔

Loading...