ایودھیا زمین تنازعہ فیصلہ: جانیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کچھ خاص باتیں

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی زیر صدارت پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ میں آج ( 9 نومبر) بہ اتفاق رائے فیصلہ پڑھا۔

Nov 09, 2019 11:47 AM IST | Updated on: Nov 09, 2019 05:38 PM IST
ایودھیا زمین تنازعہ فیصلہ: جانیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کچھ خاص باتیں

ایودھیا زمین تنازعہ فیصلہ: جانیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کچھ خاص باتیں

نئی دہلی۔ ایودھیا کے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ میں آج ( 9 نومبر) سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی زیر صدارت پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے بہ اتفاق رائے یہ فیصلہ پڑھا۔ سی جے آئی رنجن گگوئی نے یہ فیصلہ پڑھا۔

اس فیصلے سے جڑی سبھی خاص باتیں یہاں جانیں

Loading...

اے ایس آئی کی رپورٹ میں زمین کے نیچے مندر کے ثبوت ملے: سپریم کورٹ

متنازعہ زمین رام للا وراجمان کو دی گئی: سی جے آئی

مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنائی جائے: گگوئی

مرکزی حکومت تین مہینے میں منصوبہ بنائے: گگوئی

سی جے آئی نے کہا کہ ٹرسٹ تین مہینے میں مندر کا منصوبہ تیار کرے۔

متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائے گی: گگوئی

اراضی دستیاب کرائے جائے گی۔ گربھ گرہ اور مندر کے احاطے کا باہری حصہ رام جنم بھومی نیاس کو سونپا جائے گا: سی جے آئی

متنازعہ مقام پر رام للا کے جنم کے وافر شواہد ہیں اور اجودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہندوؤں کی آستھا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہے: سی جے آئی

سی جے آئی نے کہا: 2.77  ایکڑ متنازعہ زمین پر حکومت کا حق رہے گا۔

آئین کی نظر میں سبھی آستھائیں برابر ہیں: سی جے آئی

عدالت آستھا نہیں ثبوتوں پر فیصلہ دیتی ہے: سی جے آئی

اندرونی حصہ متنازع ہے۔ ہندو فریق نے باہری حصے پر دعویٰ ثابت کیا: سی جے آئی

 

Loading...