ہندوستان نے کہا : کرتاپور کوریڈور پر پاکستان کنفیوز ، ان کی ایجنسی اور وزارت خارجہ میں اختلافات

کرتار پو ر کوریڈور کے افتتاح میں دو دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ہندوستان نے آج کہا کہ سرحد پار سے متضاد رپورٹیں آرہی ہیں۔

Nov 07, 2019 11:24 PM IST | Updated on: Nov 07, 2019 11:24 PM IST
ہندوستان نے کہا : کرتاپور کوریڈور پر پاکستان کنفیوز ، ان کی ایجنسی اور وزارت خارجہ میں اختلافات

ہندوستان نے کہا : کرتاپور کوریڈور پر پاکستان کنفیوز ، ان کی ایجنسی اور وزارت خارجہ میں اختلافات

کرتار پو ر کوریڈور کے افتتاح میں دو دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ہندوستان نے آج کہا کہ سرحد پار سے متضاد رپورٹیں آرہی ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا پاکستان سے متضادرپورٹیں آرہی ہیں۔  وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ تبصرہ پاکستانی فوج کے اس بیان کے بعد آیا ہے ، جس میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ کرتار پور آنے والے ہندوستانی عقیدتمندوں کے لئے ویزا ضروری ہوگا ۔ اس سے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ کرکے اعلان کیا تھا کہ تیرتھ یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حقیقی صورت حال کے بارے میں پوچھے جانے پر رویش کمار نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ پر دستخط کئے گئے ہیں اور اس میں پاسپورٹ کو لازمی قرا ردیا گیا ہے۔ حقیقت میں یاترا کا یہ ضابطہ اس وقت تک نافذ رہے گا ، جب تک کہ معاہدہ کے ترمیمی مسودہ پر دستخط نہ ہوجائے ۔ پاکستان یا ہندوستان کو معاہدہ میں یک طرفہ تبدیلی کرنے یا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Loading...

ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستا ن نے نو نومبر کو افتتاحی پروگرام کے تحت کرتارپور جانے والے 576 افراد کی فہرست پاکستان کو 30 اکتوبرکو سونپی تھی۔ جس پر پانچ نومبر تک پاکستان کی منظوری آجانی تھی ۔ انہوں نے رسمی منظوری نہیں آنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ مان کرچل رہے ہیں کہ منظوری مل جائے گی اور اسی نقطہ نظر سے ہم نے ان تمام لوگوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ چلنے کیلئے تیار رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے نو تاریخ سے پہلے ایک ایڈوانس پارٹی کے کرتار پور جانے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی ، جس میں سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ ، وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ اورسابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ باد ل کی سیکورٹی کے انتظامات کی جانچ کی جاسکے ۔ لیکن پاکستان نے اس کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔

کرتار پور کوریڈور کے کھلنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اس کوریڈور کے کھلنے سے امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ پاکستان اپنے کنٹرول والے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف معتبر کارروائی کرے اور دہشت گردی کے ڈھانچہ کو تباہ کرے ، تبھی دہشت گردی سے پاک ماحول میں باہمی با ت چیت شروع ہوسکتی ہے۔

Loading...