جانیں ایودھیا متنازعہ اراضی پر آئے سپریم فیصلے پر عالمی میڈیا نے کہا؟

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنیچر 9 نومبر کو پوری دنیا میں سرخیوں میں بنا۔ اس فیصلے کو دنیا کے متعدد اہم اخبارات اور نیوز چینلوں نے ترجیح دی۔

Nov 10, 2019 01:09 PM IST | Updated on: Nov 10, 2019 01:44 PM IST
جانیں ایودھیا متنازعہ اراضی پر آئے سپریم  فیصلے پر عالمی میڈیا نے کہا؟

سپریم کورٹ نے حکومت سے مندر کیلئے تین مہینے میں ٹرسٹ بنانے کیلئے کہا ہے۔ (تصویر پی ٹی آئی)۔

سپریم  کورٹ  نے  ایودھیا  میں  متنازعہ  زمین  کے  بارے  میں  اپنا  تاریخی  فیصلہ  سنادیا  ہے۔  سپریم  کورٹ  نے  متنازعہ  زمین  کو  رام  للاوراجمان  کو  دیا  ہے۔  وہیں  مسجد  کیلئے  الگ  سے  زمین  دینے  کیلئے کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو خارج کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنیچر 9 نومبر کو پوری دنیا میں سرخیوں میں بنا۔ اس فیصلے کو دنیا کے متعدد اہم اخبارات اور نیوز چینلوں نے ترجیح دی۔ کورٹ کے فیصلے اور تنازعہ کی تفصیلی معلومات دیتے ہوئے انہوں نے فیصلے پر اپنا رخ بھی واضح کیا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کریں تو وہاں پر اس فیصلے پر سوال ہی اٹھائے گئے۔ پھر چاہے وہاں کے لیڈر ہوں یا پھر وہاں کی میڈیا۔ پاکستانی لیڈران کے بیان پر ہندوستان نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہندستان کے اندرونی معاملوں پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہیں پاکستانی چینل جیو ٹی وی نے لکھا ہے۔ ہندستانی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین مندر کیلئے دے دی۔ مسلم فریق کو دوسری جگہ زمین دینے کو کہا ہے۔

امریکی اخباروں نے اس مسئلے پر یہ لکھا۔۔۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا، ہندستانی کورٹ نے ایودھیا متنازعہ میں ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، 'سپریم کورٹ نے ہندستان میں متنازعہ زمین پر مندر بننے کا راستہ صاف کیا'۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا،"  ہندستانی  سپریم  کورٹ  نے  تاریخی  فیصلہ  دیتے  ہوئےمتنازعہ ارضی پر مندر بننے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ مسلم فریق کو الگ سے پانچ ایکڑ زمین دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے'۔

Loading...

برطانوی میڈیا میں بھی چھایا رہا یہ مسئلہ۔۔۔۔

دا گارڈین نے لکھا ، 'ایودھیا  فیصلہ: متنازعہ اراضی پر ہندو فریق نے جیتاکیس'۔ متحدہ عرب امارات کے اخبار گلف نیوز نے لکھا ہے ، ' ہندوؤں کو متنازعہ اور مسلمانوں کے لئے متبادل زمین '۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے ذریعہ سنایا جانے والے فیصلے کے تمام اہم پوائنٹس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

خلیجی ممالک اور پاکستان کے اخبارات نے دی اہمیت

قطر میں واقع نیوز چینل الجزیرہ نے بھی اپنی ویب سائٹ میں ایودھیا فیصلے سے متعلق متعدد نیوز رپورٹس کو اہمیت دیتے ہوئے شائع کیا ہے۔ پاکستان کے معروف اخبار ڈان نے متنازعہ اراضی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کو متبادل اراضی کے طور پر دینےوالی بات کو سرخی بنایا۔ ڈان نے اس فیصلے کے اس پوائنٹ کا بھی ذکر کیا جس میں پانچ رکنی بنچ نے متنازعہ ڈھانچے کو مسمار کرنے کی بات قبولی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اے ایس آئی کی رپورٹ میں زمین کے نیچے مندر ہونے کے ثبوت، 10 پوائنٹس میں سمجھیں ایودھیا تنازعہ سپریم کورٹ کا پورا فیصلہ

بتادیں کہ برسوں قدیم رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ آج اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے متنازع زمین کو رام للا وراجمان کو دیا ہے جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ، جج ایس اے بوبڈے ، جج ڈی وائی چندر چوڑ ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

واضح رہے ک پانچ رکنی آئینی بنچ نے ایودھیا تنازعہ پرمسلسل 40 دن تک  کی سماعت کے بعد 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

یہ بھی بتادیں کہ عدالت نے شیعہ وقف بورڈ کی مالکانہ حق اور نرموہی اکھاڑے کی عرضی کو خارج کردیا اور واضح کیا کہ مسجد خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی اور اس کے نیچے مندر کے باقیات موجود تھے۔ بنچ نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ مندر کو توڑ کر ہی مسجد بنائی گئی تھی۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس معاملے میں صرف آستھا کی بنیاد پر مالکانہ حق کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ ہندو مانتے رہے ہیں کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ایودھیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نرموہی اکھاڑے کو مرکزی حکومت کی طرف سے مندر کی تعمیر کے لئے بنائے جانے والے نیاس میں نمائندگی دی جائے گی۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ 2.77 ایکڑ کی پوری متنازعہ اراضی رام مندر کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔

گذشتہ پانچ سو برسوں سے چلے آرہے اس تنازعہ میں 206 سال کے بعد فیصلہ آیا ہے ۔ متنازعہ مقام پر ہندو اور مسلم فریقوں میں مالکانہ حق کا تنازع 1813 میں شروع ہوا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنٔو بنچ نے 30 ستمبر 2010 کو اجودھیا میں متازعہ زمین کو رام للا وراجمان ، نرموہی اکھاڑا اور سنی وقف بورڈ میں برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف عدالت عظمی میں اجازت کی 14 خصوصی عرضیاں دائر کی گئیں۔ عدالت عظمی نے اس معاملے کی سماعت ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد شروع کی تھی۔ اس سے پہلے عدالت نے ثالثی کے لئے جسٹس (سبکدوش) محمد ابراہیم کلیم اللہ کی قیادت میں تین رکنی ثالثی پینل تشکیل دیا تھا۔

Loading...