ہردا ٹرین حادثہ : پربھو کی لیلا ، زخمیوں سے ملنے کے نام پر فائیو اسٹار ہوٹل میں گزار آئے 5 گھنٹے

مرکزی وزیر ریل سریش پربھو اور ریلوے کے وزیر مملکت منوج سنہا بدھ کو دہلی سے نکلے تو تھے مدھیہ پردیش کے ہردا میں ہوئے ریل حادثے کا جائزہ لینے کیلئے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کیلئے

Aug 06, 2015 08:36 PM IST | Updated on: Aug 06, 2015 10:15 PM IST
ہردا ٹرین حادثہ : پربھو کی لیلا ، زخمیوں سے ملنے کے نام پر فائیو اسٹار ہوٹل میں گزار آئے 5 گھنٹے

بھوپال : مرکزی وزیر ریل سریش پربھو اور ریلوے کے  وزیر مملکت منوج سنہا بدھ کو دہلی سے نکلے تو تھے مدھیہ پردیش کے ہردا میں ہوئے ریل حادثے کا جائزہ لینے کیلئے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کیلئے ، لیکن وہ بھوپال کے فائیو اسٹار ہوٹل میں پانچ گھنٹے گزار کر واپس چلے گئے ۔ قابل ذکر ہے کہ  وزیر ریل نے راجیہ سبھا میں ممبران پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جائے حادثہ پر جائیں گے اور متاثرین کا درد بھی بانٹنے کی کوشش کریں گے ۔

ملک میں پہلی بار ایک جگہ پر دو ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے واقعہ کا جائزہ لینے کے لئے ریلوے کے وزیر سریش پربھو اور وزیر مملکت منوج سنہا بدھ کو دوپہر تین بجے بھوپال آئے ۔  یہاں انہیں ریلوے کے افسروں نے بتایا کہ ہردا میں پانی برس رہا ہے اور موسم بھی خراب ہے ، جس کے بعد دونوں وزیر نور الصباح ہوٹل چلے گئے ، یہاں انہوں نے فون پر ہی حکام سے بات چیت کی ، ہردا سے لوٹ کر آئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان سے ملاقات کی اور بعد میں ہردا نہ جانے کا فیصلہ کیا اور رات نو بجے دہلی واپس لوٹ گئے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے ہردا ٹرین حادثے میں محکمہ ریل کی لاپروائی کو تسلیم کرنے  سے صاف انکار کر دیا ۔ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر ریل نے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے کیونکہ یہ حادثہ ایک قدرتی آفت ہے ۔  انہوں نے کہا کہ بھاری بارش کی وجہ سے مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور اڑیسہ جیسی ریاستوں میں سیلاب کے حالات بنے ہوئے ہیں اس کے لئے تو بس خدا سے ہی دعا کی جا سکتی ہے ۔

ریلوے کے وزیر نے حادثے کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ کسی کی لاپروائی سے نہیں بلکہ نالے میں اچانک سیلاب آنے کے وجہ سے پیش آیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھاری بارش کی وجہ سے نالے  میں پانی کی سطح کافی بڑھ گئی تھی ۔  تیز بہاو کی وجہ سے ٹریک کے نیچے کی مٹی کھسک گئی اور جس سے ٹریک کا سپورٹ ختم ہو گیا ۔ اسی وجہ سے جب كاماينی اور جنتا ایکسپریس اس پر سے گزری تو دونوں ٹرینوں کے کئی ڈبے پانی میں بہہ گئے

Loading...

Loading...