ریئل بھائی جان: ماں اور بھائی کو کندھے پر بٹھا کر موت کے منہ سے نکالا اور خود سیلاب میں بہہ گیا

میری اور امی کی آنکھوں کے سامنے پانی ان کی جان لے رہا تھا، پھر بھی ہم انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پائے

Aug 07, 2015 12:08 PM IST | Updated on: Aug 07, 2015 12:08 PM IST
ریئل بھائی جان: ماں اور بھائی کو کندھے پر بٹھا کر موت کے منہ سے نکالا اور خود سیلاب میں بہہ گیا

بھوپال :  میری اور امی کی آنکھوں کے سامنے پانی ان کی جان لے رہا تھا، پھر بھی ہم انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پائے .... 'وہ میرے اور امی کے سامنے زندگی بچانے کے لئے جوجھتے رہے ، پانی ان کی جان لے رہا تھا ، پھر بھی ہم انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہے تھے اور پھر ان کی سانس تھم گئی اور بس ہم بھی اپنی موت کا انتظار کرنے لگے ۔

کچھ ایسی ہی دردناک داستا بیاں کی بھوپال میں رہنے والے 17 سال کے ارمان نے ، جنہوں نے ہردا ٹرین حادثے میں اپنے بڑے بھائی کو کھو دیا ۔ ارمان نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی رمضان (23) اور ان کی امی سلیمہ بی (55) برہانپور سے كاماينی ایکسپریس سے بھوپال لوٹ رہے تھے کہ یہ ٹرین حادثہ کا شکار ہوگئی ، اس حادثے میں کیا کیا ہوا ان کے ساتھ اس کی پوری کہانی اس نے کچھ یوں بیاں کی ہے ۔

ہم بھابھی سے ملاقات کرنے کے بعد برہانپور سے بھوپال لوٹ رہے تھے ، ٹرین میں ہی ہم نے ساتھ کھانا کھایا اور پھر باتیں کرنے لگے ، اتنے میں تیز آواز کے ساتھ زوردار دھکا لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے سب سے اوپرنیچے ہو گیا ، جب تک تھوڑا سنبھلتے تب تک احساس ہوا کی بوگی میں پانی بھر رہا ہے، میں، بھائی جان اور امی گیٹ کی طرف بڑھے ، پانی تیزی سے ڈبے میں گھس رہا تھا ، اس کی وجہ سے ایک جگہ پر کھڑا رہنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔

کوچ میں پانی اور مٹی بھر گئی تھی ۔ گلےگلے تک پانی بھر گیا تھا ، موت آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی ، میں اور امی بہت ڈر گئے تھے، لیکن رمضان بھائی ہمارا حوصلہ بڑھا رہے تھے ، ڈبے میں کچھ لوگ جان بچانے کے لئے پنکھے پر لٹک گئے تو کچھ کسی طرح گیٹ پر پہنچ گئے ، مجھے اور امی کو مایوس دیکھ کر بھائی نے دونوں کو کندھے پر بٹھا لیا ، پانی اور کیچڑ سے اسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ، پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، انہوں نے کافی دیر تک ہمیں کندھے پر اٹھا کر رکھا ، باقی لوگوں کی طرح امی اور میں نے بھی پنکھے پکڑ کر رکھے تھے ۔

Loading...

بھائی جان نے پوری طاقت لگاتے ہوئے امی اور مجھے گیٹ تک پہنچایا اور کسی طرح ہمیں ڈبے سے باہر نکالا ، موت کو شکست دینے کی امید اب زندہ ہو گئی تھی ، لیکن پانی کی ایک تیز لہر نے ہمیں تاعمر کا درد دے دیا ، بھائي جان پانی میں پھنس کر رہ گئے ۔

جس طرف بھائي جان تھے وہاں کا حصہ پانی سے لبالب بھر گیا ، پانی ان کی جان لے رہا تھا ، پھر بھی ہم انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہے تھے اور پھر ان کی سانس تھم گئی اور بس ہم بھی اپنی موت کا انتظار کرنے لگے ، ہم تقریبا 2 سے 3 گھنٹوں تک پھنسے رہے ، پھر امید کی روشنی بن فوجی لوگ ہمیں بچانے آئے ، انہوں نے ہمیں بڑی مشکل سے وہاں سے باہر نکالا، صبح ہوتے ہی میں اور امی بھائي جان کی لاش تلاش کرنے لگے ، وہاں موجود فوجی اور لوگ ڈبے میں سے لاشیں نکال رہے تھے ، جائے حادثہ سے تقریبا ایک کلو میٹر دور ہمیں لاش ملی ۔

ارمان نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی رمضان سے بہت محبت کرتا تھا ، ان کے لئے ان کا بڑا بھائی سب سے قیمتی تھا ، اس نے کہا کہ میں اور بھائی جان ایک دوسرے کے سب سے قریب تھے ، 2008 میں ابو کے گزر جانے کے بعد سے بھائي جان ہی ہمارے لئے سب کچھ تھے ، گھر کا بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی پلاٹ کی خریدو فروخت کی  ایک آفس میں کام کرنا شروع کر دیا ۔ وہ امی سے اور بھابھی سے بھلے ہی غصہ کرتے ہوں لیکن مجھے بہت پیار کرتے تھے ۔

ادھر فون پر جب ارمان سے ان امی کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو ارمان بس اتنا ہی کہہ پایا کہ امی .... بڑی مشکل سے خود کو سنبھال پا رہے ہیں ہم .... ابھی ارمان نے اپنے الفاظ ختم  ہی کئے تھے کہ پیچھے اپنے بیٹے کو کھو چکی سلیمہ بی کی رونے کی آواز آئی  ، جو روتے  ہوئے بس یہی کہے جا رہی تھیں کہ 'اللہ بس مجھے میرا بیٹا لوٹا دے ، میں تیری ہر درگاہ پر چادر چڑھاوںگي ، بس میرا بیٹا لوٹا دے اللہ ۔

Loading...